چین ہمارا دوست ملک ہے، چین کے ساتھ بھائی چارے پر مبنی ہمارے تاریخی تعلقات ہیں‘پورے ملک میں ہوائی اڈوں پر چینی باشندوں کی آمد و رفت میں سہولت کے لئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں:اجلاس میں گفتگو
پولیس کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا، عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے‘ملک میں دوبارہ دہشتگردی نے سر اٹھایا ہے، دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کیلئے ہماری بہادرافواج سرگرم ہیں: نیشنل پولیس اکیڈمی سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے درمیان اہم مشترکہ منصوبہ ہے جو اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس میں دونوں ممالک کے مابین بزنس ٹو بزنس طرز پر معاملات طے کیے جائیں گے۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا اسلام آباد سمیت پورے ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، سیف سٹی منصوبے اس بڑھتی ہوئی استعداد کی بہترین مثال ہیں، پورے ملک میں عالمی معیار کے مطابق سیف سٹی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا چین ہمارا دوست ملک ہے، چین کے ساتھ بھائی چارے پر مبنی ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان اور چین کا انتہائی اہم مشترکہ منصوبہ ہے، سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین بزنس ٹو بزنس طرز پر معاملات طے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے تناظر میں پاکستان میں چینی باشندوں کا تحفظ مزید اہمیت کا حامل ہو چکا ہے، ہم ملک میں چینی برادری کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول تعمیر کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت میں چینی کمپنیوں کا اعتماد ہمارے معاشی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، پورے ملک میں ہوائی اڈوں پر چینی باشندوں کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں‘دریں اثناء وزیراعظم نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے پولیس افسروں اور اہلکاروں کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا جہاں انہیں عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے پولیس فورس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تربیت کے بعد میدان عمل میں آپ نے عام آدمی کو انصاف دینا ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، آپ نے شہروں اور دیہات میں امن قائم کرنا ہے، اہداف کا حصول تبھی ممکن ہے جب بہترین تربیت اور سہولتوں کویقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں دوبارہ دہشتگردی نے سر اٹھایا ہے، دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کیلئے ہماری بہادرافواج سرگرم ہیں، رینجرز، ایف سی، پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے روز دہشتگردوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ان کا پولیس افسران سے یہ بھی کہنا تھا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اورانصاف مہیا کرنا آپ کی ترجیح ہونی چاہئے، آج نیشنل پولیس اکیڈمی میں آکر بہت خوشی ہوئی۔محمد شہباز شریف نے بتایا کہ بطور وزیراعلی پنجاب ایلیٹ فورس کا قیام عمل میں لایا جس کا مقصد ایلیٹ کا تحفظ نہیں بلکہ معاشرتی برائیوں کوختم کرنا ہے، انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لائے اور لاہور میں فرانزک لیب قائم کی، پنجاب پولیس میں 100 فیصد میرٹ پر بھرتیاں کیں جس کے بعد سب اداروں نے مل کردہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دریائے جہلم میں ایک پولیس جوان نے شہریوں کی جان بچاتے ہوئے شہادت پائی، وطن کی آبیاری اور فرض کی ادائیگی کے لیے پولیس کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں