بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی برآمدات کو 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے
چین سے شراکت داری نئے دور میں داخل ہو چکی،سی پیک نے ترقیاتی منظرنامے کو بدل دیا :چین پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے، چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے ۔چین پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یہ شراکت داری تسلسل، اعتماد اور سٹریٹجک گہرائی کی روشن مثال بن چکی ہے۔ سی پیک نے توانائی، سڑکوں، گوادر بندرگاہ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک اڑان پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کی تشکیل ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریبا 6 کھرب ڈالر ہے، تاہم معدنی برآمدات اس وقت محض 2 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی برآمدات کو 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔