پاکستانیوں کا ڈیٹا غیر محفوظ آن لائن فراڈ میں اضافے کا خدشہ
صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال پر مؤثر قانونی کارروائی ممکن نہیں ،قوانین نہ ہونے کے باعث ڈیجیٹل سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو پا رہا، جس سے ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا امکان : ماہرین
اسلام آباد (بیورو رپورٹ،خصوصی رپورٹ)پاکستان میں شہریوں کا آن لائن ذاتی ڈیٹا غیر محفوظ ہونے کا معاملہ سنگین شکل اختیار کر چکا کیونکہ ملک میں تاحال کوئی جامع اور موٓثر ڈیٹا پرائیویسی پالیسی موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قانون سازی نہ ہونے کے باعث شہریوں کی شناختی معلومات، موبائل ڈیٹا، بینکنگ تفصیلات اور دیگر حساس معلومات غیر محفوظ ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ڈیٹا لیک اور آن لائن فراڈ کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال پر مؤثر قانونی کارروائی ممکن نہیں ہے کیونکہ شہریوں کے ڈیٹا کو فروخت کرنے یا ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے سے متعلق کوئی واضح پالیسی یا قانون موجود نہیں۔ اس صورتحال کے باعث ڈیٹا لیک اور آن لائن فراڈ کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویسی قوانین نہ ہونے کے باعث ڈیجیٹل سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو پا رہا، جس سے ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا امکان ہے۔۔۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کے تحفظ کے مؤثر قوانین نہ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بھی مجروح ہو رہا ہے، جو پاکستان کے ڈیجیٹل نظام اور آن لائن سروسز پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی شہری کے ڈیٹا کا غلط استعمال ہوتا ہے تو موجودہ صورتحال میں اس کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ممکن نہیں ہے۔۔ گزشتہ روز سینٹ کمیٹی داخلہ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کے نادرا ، ایف بی آر اور بینکس کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، کمیٹی میں سینیٹر افنان اللہ نے کہا تھا کہ کسی بھی پاکستانی کا ڈیٹا پانچ سو روپے میں دستیاب ہے۔