درجنوں ویب سائٹس پر موبائل کی لوکیشن500 ، موبائل ڈیٹا ریکارڈ 2ہزاراور غیرملکی سفرکی تفصیل 5 ہزارروپے میں دستیاب

موبائل سمز سے پاکستانیوں کا ڈیٹا لیک
 جرائم پیشہ عناصرکسی بھی شہری کا ڈیٹا چند پیسوں میں خرید کر شہریوں کو مصیبت میں پھنسا سکتے ہیں،ایسی سائٹس بند کر دی گئی : پی ٹی اے ، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل ،ڈیٹا لیکیج کے معاملے کی ہرپہلو سے تحقیقات کی جائیں گی ،کمیٹی 14دن میں رپور ٹ پیش کرے گی
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا موبائل سمز سے لیگ ہونے والا ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکشن لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقا ت کیلئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی۔ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ پر درجنوں ویب سائٹس شہریوں کا ڈیٹا معمولی پیسوں عوض بیچنے میں مصروف ہیں، موبائل کی لوکیشن500 روپے، موبائل ڈیٹا ریکارڈ کی تفصیل2000 روپے اور غیرملکی سفرکی تفصیل 5 ہزارمیں دستیاب ہے، جرائم پیشہ عناصرکسی بھی شہری کا ڈیٹا چند پیسوں میں خرید کر شہریوں کو مصیبت میں پھنسا سکتے ہیں۔اس حوالے سے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایسی سائٹس بند کر دی گئی ہیں تاہم واضح رہے کہ ایک سال بعد بھی شہریوں کا ڈیٹا بیچنے جانے کا عمل جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر موبائل سم مالک کا ایڈریس، کال ریکارڈ، شناختی کارڈ کی کاپی، بیرون ملک سفرکی تفصیلات سب کچھ فروخت کیا جا رہا ہے، وفاقی وزرا، اہم حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت ہورہا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ سے لے کر ترجمان پی ٹی اے تک ہر شخص کا ڈیٹا گوگل پر بیچے جانے کا انکشاف ہوا جبکہ تمام دستاویزات انٹرنیٹ پر موجود ہیں، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے سمیت تمام ادارے ڈیٹا کی فروخت پر خاموش ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو معاملے کی تحقیقات اور اقدامات کی ہدایت کر دی، ہدایات ملنے پر این سی سی آئی اے نے کام شروع کر دیا اور خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی جو ڈیٹا لیکیج کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ڈیٹا لیکیج میں ملوث عناصر کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تحقیقاتی ٹیم 14روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق اس حوالے سے سخت اقدامات کئے جارہے ہیں ،حکومتی دستاویزات اور حساس معلومات کی انٹرنیٹ پر موجودگی کے معاملے پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کے ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔