لاہور: طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے ملزم امیر فتح کی عبوری درخواست ضمانت کنفرم کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے عبوری درخواست ضمانت پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی مقدمہ موقع پر موجود نہیں تھا، زخمی نے مدعی کو کال کر کے وقوعہ کی اطلاع دی۔ علاقہ میں سیف سٹی کیمرے موجود تھے، تاہم پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزم موقع پر نظر نہیں آیا۔واقعہ دو بجے پیش آیا، مگر مقدمے کی ایف آئی آر چار بج کر 40 منٹ پر درج ہوئی۔ زخمی کا ڈاکٹری معائنہ پانچ گھنٹے بعد تین بج کر 15 منٹ پر ہوا، اور معائنے کے دوران زخمی نے کسی طور پر امیر فتح یا دیگر ملزمان پر الزام نہیں لگایا۔پولیس نے موبائل ریکوری کے لیے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست کی تھی، مگر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں یہ استدعا مسترد کر دی گئی۔ وکیل صفائی کے مطابق زخمی خاتون نے ملزم کو شناخت نہیں کیا، اور سابق دشمنی کی بنیاد پر ملزم کو ملوث کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق، ملزم کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض کنفرم کی جاتی ہے۔یاد رہے کہ ملزم امیر فتح کے خلاف تھانہ اچھرہ میں دو ستمبر 2024 کو قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزم نے دو موٹر سائیکل سواروں کے ذریعے کینال روڈ شاہ جمال اچھرہ اشارے پر فائرنگ کروائی، جس میں مقتول کے والد محمد جاوید موقع پر ہلاک اور والدہ شدید زخمی ہوئیں، جنہیں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔