لاہور ہائیکورٹ نے جاوید بٹ قتل کیس میں نامزد ملزم امیر فتح کو عبوری ضمانت دے دی

لاہور ہائیکورٹ نے جاوید بٹ قتل کیس میں نامزد ملزم امیر فتح کو عبوری ضمانت دے دی

لاہور ہائیکورٹ نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم امیر فتح کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔

 تحریری حکم جسٹس محمد امجد رفیق نے جاری کیا۔عدالتی حکم کے مطابق امیر فتح نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے بدنیتی پر مبنی طور پر قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور مدعی نے دانستہ طور پر اس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا۔ عدالت نے ابتدائی دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو عبوری ضمانت فراہم کی۔تحریری حکم میں عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ملزم پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے پاس جمع کروائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تفتیشی ادارے کو ضرورت محسوس ہو تو درخواست گزار شاملِ تفتیش ہونے کا پابند ہوگا اور تفتیش میں مکمل تعاون کرے گا۔مزید کہا گیا کہ عبوری ضمانت کی درخواست کے حتمی فیصلے تک ملزم عدالت میں پیش ہونے کا پابند رہے گا اور کسی بھی صورت عدالتی کارروائی سے گریز نہیں کر سکتا۔

تحریری حکم میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ اچھرہ پولیس نے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے اور پولیس کی جانب سے کیس کی تفتیش جاری ہے۔ واضح رہے کہ جاوید بٹ کے قتل کے واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، جس میں امیر فتح کو نامزد کیا گیا۔ ملزم نے ٹرائل کورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔