تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

کمبوڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائی لینڈ نے اس کی سرزمین پر فضائی حملے کیے، حالانکہ دونوں ممالک نے اسی ہفتے مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں تھائی لینڈ میں کم از کم 23 اور کمبوڈیا میں 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں جانب سے 9 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ سیہاسک پھوانگکٹکیو نے کوالالمپور میں آسیان ممالک کے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع پر بدھ کو بات چیت ہوگی۔ یہ مذاکرات تھائی لینڈ کے صوبے چنتھابوری میں دو طرفہ بارڈر کمیٹی کے تحت ہوں گے۔تاہم مذاکرات کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ تھائی فضائیہ نے سیام ریپ اور پریاہ ویہیر صوبوں کے بعض علاقوں پر بمباری کی۔

 سیام ریپ وہی صوبہ ہے جہاں مشہور انگکور واٹ واقع ہے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔تھائی فوج نے بتایا کہ کمبوڈیا کی جانب سے پیر کے روز درجنوں راکٹ تھائی علاقے میں داغے گئے، جس کے جواب میں تھائی فضائیہ نے کمبوڈیا کے دو فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔سرحدی فائرنگ اور فضائی حملوں کے باوجود کمبوڈیا کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے نفاذ کے حوالے سے پُرامید ہے، تاہم تھائی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مذاکرات کے نتیجے میں فوری جنگ بندی ممکن نہ بھی ہو۔