کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان شدت اختیار کرتی جھڑپیں، ٹرمپ کی ثالثی سے امن کی امید روشن

کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان شدت اختیار کرتی جھڑپیں، ٹرمپ کی ثالثی سے امن کی امید روشن

کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحد پر ایک بار پھر شدید جھڑپوں کا آغاز ہوگیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا ایک تازہ مرحلہ ہے۔

 تازہ جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تھائی فوجی اور کمبوڈیائی شہری شامل ہیں۔ لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں خاندان سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور محفوظ مقامات پر پناہ لے چکے ہیں۔ زیادہ تر متاثرین تھائی لینڈ میں پناہ گزین ہیں۔رپورٹس کے مطابق، یہ لڑائیاں کمبوڈیا کے اوڈار مینجے صوبہ اور تھائی لینڈ کے سورن اور سا کےؤ علاقوں میں ہو رہی ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو فائربندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ یہ سرحدی علاقے اور قدیم مندریں، جو کہ کئی دہائیوں سے تنازع کا سبب ہیں، ان کے حوالے سے جاری جھڑپیں جولائی کے بعد سے سب سے شدید ہیں، جب پانچ روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔ اس لڑائی کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی اور ایک کمزور جنگ بندی قائم کی گئی تھی، لیکن اب وہ بھی ٹوٹ چکی ہے۔

حالیہ حالات میں، تقریبا نصف ملین سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر تھائی لینڈ میں رہنے والے ہیں، اپنی رہائش گاہیں چھوڑ کر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ یونیسکو نے ان قدیم مندروں اور ورثے کی حفاظت کے لیے اپیل کی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس صورتحال کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ وہ آج دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے بات کریں گے تاکہ فوری طور پر لڑائی کو روکا جا سکے اور امن قائم کیا جا سکے۔ یہ جھڑپیں حالیہ عرصے میں سب سے زیادہ شدت اختیار کر چکی ہیں اور دونوں ملکوں کے بیچ جاری دیرینہ تنازعہ کا ایک اور مشکل مرحلہ ہے۔