تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک دس افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق، کمبوڈیائی فوج نے رات بھر شیلنگ اور بمباری جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملوں میں اب تک سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ترجمان تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈیائی فوج نے ہتھیار اور فوجی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے، جس کا جواب تھائی فوج نے بھرپور انداز میں دیا ہے۔ دوسری جانب، کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ تھائی فوج نے کمبوڈیا پر حملے کیے ہیں، جن میں تین کمبوڈیائی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔جدید جھڑپوں میں، تھائی لینڈ کے 2 فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کمبوڈیا نے سرحد کے نزدیک تمام اسکول عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔ سرحدی علاقوں سے ہزاروں شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے جواب میں، امریکی صدر نے ان حالات کے تناظر میں دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں، امریکی صدر ٹرمپ نے ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سمٹ کے دوران، دونوں ملکوں کے بیچ سیز فائر کروایا تھا، جس پر دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ دستخط بھی کیے تھے۔ تاہم، حالیہ کشیدگی اس معاہدے کے باوجود دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔