بانی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی : پی ٹی آئی کا مطالبہ ،مذاکرات میں رہائی شامل نہیں ہوگی:مشیر وزیر اعظم

 بیرسٹر گوہر  بانی کی رہائی پر ڈیڈ لاک؟اسحق ڈار
 تحریک انصاف نے سول نافرمانی سے متعلق عملی اقدامات روک لئے ،سپیکرایازصادق نے دونوں کمیٹیوں کو آج 11 بجے بلالیا ،اگر کوئی سمجھ رہا ہے مذاکرات کی آڑ میں ڈیل یا ڈھیل ملے تو ان کی غلط فہمی ہے: بیرسٹر عقیل،مطالبات نہ مانے گئے تو سول نا فرمانی کی تحریک شروع کریں گے: عمر ایوب 
 اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں بانی کی رہائی پر ڈیڈ لاک کا امکان ہے ،تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کیلئے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کی رہائی کی فہرست تیار کر لی گئی، سیاسی قیدیوں کی فہرست میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا نام سرفہرست رکھا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی سیاسی قیدیوں کی رہائی، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبات رکھے گی۔تیار ڈرافٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کے 3 انتہائی سینئر ججز پر مشتمل ہونے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔وزیر اعظم کے مشیرِ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگی۔ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا پہلے آپ سول نافرمانی کی کال دیں، پھر کہیں 9 مئی میں ریلیف مل جائے۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے پہلے آپ کو ٹی او آرز طے کرنا ہیں، ٹی او آرز اور ایجنڈا طے کرنے کے بعد بات آگے چل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے کام ہیں، عدالتوں کے فیصلے ہیں عدالتی نظام ہے، عدالتی سسٹم اپنا راستہ اختیار کرے گا، اگر کوئی سمجھ رہا ہے مذاکرات کی آڑ میں ڈیل یا ڈھیل ملے تو ان کی غلط فہمی ہے۔ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کہیں نہیں لکھا کہ آپ کو عام معافی دے دی جائے گی، 9 مئی کے کیسز اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم پر سول نافرمانی کی بندوق لٹکا کر زدوکوب کرنے کی کوشش کی جائے اور ہمیں کہا جائے کہ مذاکرات کی طرف آئیں تو اس طرح مذاکرات نہیں ہو سکتے۔تحریک انصاف نے سول نافرمانی سے متعلق عملی اقدامات روک لئے۔ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کے باعث سول نافرمانی کے احکامات روکے،بانی پی ٹی آئی نے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کیلئے آج دن دو بجے تک کی ڈیڈلائن دی تھی،ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی مذکراتی ٹیم کی آپس میں غیر رسمی مشاورت کر رہی۔وزیراعظم شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی کی تجویز پر تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی۔ گزشتہ رو ز وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان،سینیٹر عرفان صدیقی ، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چودھری سالک حسین شامل ہیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کی کاوش کو سراہتا ہوں۔ پی ٹی آئی پہلے ہی مذاکراتی کمیٹی بنا چکی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جامع بات ہونی چاہئے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن سے مذاکرات کیلیے وزیراعظم کی طرف سے کمیٹی تشکیل دینے کا خیر مقدم اور اظہار تشکر کرتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کیلیے دونوں کمیٹیوں کے اراکین کو آج (پیر)کو دن ساڑھے گیارہ بجے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ دونوں کمیٹیوں کے اراکین سے پارلیمنٹ ہاوٓس میں اپنے چیمبر میں ملاقات کروں گا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق سپیکر نے کہاکہ مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کا اقدام خوش آئند ہے۔نیک نیتی سے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی۔سپیکر آفس کے دروازے ہمیشہ اراکین کیلیے کھلے ہیں۔ بات چیت اور مکالمے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات جامع اور نتیجہ خیز ہونے چاہئیں۔ امید ہے کم سے کم وقت میں تمام مسائل کا نتیجہ خیز حل نکل آئے گا، دونوں کمیٹیوں میں سنجیدہ لوگ ہیں، مذاکرات آگے ضرور بڑھیں گے۔پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹر ی اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ آج حکومت اور اپوزیشن کی ملاقات میں حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوجائیگا، ملاقات کے بعد سول نافرمانی تحریک کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ملاقات میں کچھ ہم اپنی سنائیں گے کچھ انکی سنیں گے، ملاقات کے تمام نکات عمران خان سے ڈسکس کریں گے۔سول نافرمانی تحریک کے بارے میں حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وقاص اکرم نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق بات کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے شکر گزار ہیں تاہم حکومت معاملات بہتری کی طرف نہیں لے جانا چاہتی ہے۔ ہری پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو سول نا فرمانی کی تحریک شروع کریں گے، بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ بند کرنے کا کہیں گے۔عمر ایوب خان نے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ بند کرنے کا کہیں گے، فوجی عدالتوں سے ہمارے ورکرز کو غیر آئینی طور پر سزا دی گئی، فوجی عدالتوں سے سزا کی اجازت سپریم کورٹ کے اختیارات سے تجاوز ہے۔ادھر حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلی مرتبہ غیر مشروط ، باضابطہ مذاکراتی عمل کا سلسلہ آج سے شروع ہوگا۔دونوں جانب سے مذاکرات کیلئے تفصیلی شرائط بھی آج کمیٹی کو پیش کی جائیں گی جن کا جائزہ لے کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیاجائے گا۔دونو ں کمیٹیاں پہلے اجلاس میں ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی اور ایک دوسرے کی سنجیدگی کا جائزہ لیاجائیگا۔ بعدمیں دونوں کمیٹیاں اپنے اپنے قائدین کو مذاکرات کی رپورٹس بھی پیش کریں گی۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی مذاکرات ٹیم کی میزبانی کی جائے گی۔کمیٹی کے ٹی او آرز طے کئے جائیں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ پہلے اجلاس میں دونوں کمیٹیوں کے اراکین اپنے اپنے مطالبات رکھیں گے جس کا جائزہ لیاجائے گا۔