پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات تیارکرلیے،پہلا مطالبہ بانی پی ٹی آئی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی، دوسرا 9 مئی اور24 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کاقیام

حکومت پی ٹی آئی مذاکرات کا تیسرا دور آج

 سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا،حکومت اگر مطالبات پر متفق نہیں ہوتی تو مذاکراتی عمل ختم ہوجائیگا،شیخ وقاص اکرم،دوسرا فریق مشروط طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو  اس کی مرضی، اس طرح نتائج حوصلہ افزا نہیں آ سکتے،ذرائع حکومتی کمیٹی
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج ہو گا، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی قیادت تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی۔حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس آج صبح ساڑھے گیارہ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔اپوزیشن کمیٹی کے ذرائع کے مطابق ہم نے اس حوالے سے اپنے بانی چیئرمین سے مکمل ہدایات لے لی ہیں، پارٹی قیادت نے ان ہدایات کی روشنی میں اپنے مطالبات کو تحریری شکل دے دی ہے، قومی امکان ہے کہ ہماری کمیٹی ذمہ داران اجلاس میں اپنے مطالبات میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام اور تمام اسیران کی رہائی کا مطالبہ رکھ سکتے ہیں۔ حکومتی کمیٹی کے ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے مطالبات سامنے آنے کے بعد حکومتی کمیٹی بھی اپنی اپنی قیادت کو اعتماد میں لے گی۔ حکومتی کمیٹی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور پارلیمانی ہم آہنگی کے لیے ہم کھلے دل اور صاف نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن دوسرا فریق مشروط طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی، اس طرح سے مذاکرات کے نتائج حوصلہ افزا نہیں آ سکتے۔دوسری جانب سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت اگر مطالبات پر متفق نہیں ہوتی تو مذاکراتی عمل ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے اپنے تحریری مطالبات تیار کرلیے ، تحریری مطالبات مذاکراتی کمیٹیوں کی میٹنگ میں پیش کیے جائیں گے۔ہم حکومت کو دو مطالبات پیش کریں گے۔ پہلا مطالبہ بانی پی ٹی آئی اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے ہے، دوسرا مطالبہ 9مئی اور 24نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ہمارے مطالبات پر متفق نہیں ہوتی تو مذاکراتی عمل ختم ہوجائے گا۔