پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے درمیان آج مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
دونوں فریقین کی کمیٹیاں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ملاقات کریں گی، جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کریں گے۔ اجلاس کی نوعیت ان کیمرہ ہوگی اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس اجلاس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے ذریعے دونوں کمیٹیوں کے اراکین کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
مذاکراتی کمیٹیاں:
حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، سینیٹر عرفان صدیقی، قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، خالد مقبول صدیقی، عبدالعلیم خان اور چودھری سالک حسین شامل ہیں۔پی ٹی آئی نے اپنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مطالبات:
پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے دوران اٹھانے کے لئے اپنے مطالبات کا ایک ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ اس ڈرافٹ میں خاص طور پر پانچ ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کی فہرست شامل کی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا نام سرفہرست ہے۔ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی جانب سے مطالبہ کیا جائے گا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ پی ٹی آئی نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ یہ جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کے تین انتہائی سینئر ججز پر مشتمل ہو۔
مذاکرات کا مقصد:
یہ مذاکرات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم قدم ہیں، جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور اہم قومی معاملات کی تحقیقات پر زور دیا جائے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنا اور ملک میں سیاسی استحکام لانا ہے۔