جناح ہاؤس حملہ کیس: علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

جناح ہاؤس حملہ کیس: علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور: بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیر شاہ کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ شیر شاہ جائے وقوعہ پر حسان نیازی کے ساتھ موجود تھا اور وہاں اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ ویڈیو میں بھی شیر شاہ کی موجودگی ثابت ہوتی ہے، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریکور کرنے ہیں، اور ملزم کا پولی گرامیٹک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے تیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران ڈی ایس پی جاوید آصف نے عدالت میں ملزم کی ویڈیو بھی دکھائی۔عدالت میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان سمیت دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے۔ ملزم کی جانب سے معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے۔

 انہوں نے کہا کہ پولیس عمران خان کے خاندان کو گرفتاریوں کے ذریعے پریشان کر رہی ہے۔ ان کے مطابق شیر شاہ کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، کیونکہ وہ کل تک پولیس کو مطلوب بھی نہیں تھا۔وکیل نے کہا کہ شیر شاہ اپنے بھائی شاہ ریز خان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے عدالت آیا تھا اور عدالت سے واپسی کے دوران پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جناح ہاؤس کیس میں 27 ماہ بعد کی جانے والی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ لہٰذا عدالت ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعدازاں فیصلہ سناتے ہوئے شیر شاہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔