جناح ہاؤس حملہ کیس: فلک جاوید عدالت میں پیش، مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا

جناح ہاؤس حملہ کیس: فلک جاوید عدالت میں پیش، مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا

لاہور: جناح ہاؤس حملہ کیس میں پولیس نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔

 پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر ملزمہ کو عدالت کے روبرو پیش کرتے ہوئے تفتیش مکمل کرنے کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کیلئے فلک جاوید کا مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔دوسری جانب ملزمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر سلہریا عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فلک جاوید کو کسی دوسرے ملزم کے بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، جبکہ وہ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نہیں ہیں۔ وکیل کے مطابق فلک جاوید کو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا اور انہیں مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسی کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔

جناح ہاؤس حملے کا مقدمہ تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ نمبر 96/23 کے تحت درج ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنوں کو جلاؤ گھیراؤ اور حملے کیلئے اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے مبینہ طور پر سازش کے تحت جناح ہاؤس پر حملہ کیا، جبکہ مقدمے میں بغاوت سمیت دیگر سنگین دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔تاہم فلک جاوید کے وکیل کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے اور عدالت سے ملزمہ کو مقدمے سے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔