پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز عظیم کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منظر علی گل نے کی۔ پولیس کی جانب سے ملزم کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے صرف 8 دن کا ریمانڈ منظور کیا اور حکم دیا کہ ملزم کو 30 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔پولیس کے مطابق ملزم شاہ ریز کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران ڈی ایس پی آصف جاوید نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملزم اس کیس میں براہ راست ملوث ہے۔ عدالت میں ملزم کی پیشی کے موقع پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ملزم کی جانب سے وکلا سلمان اکرم راجہ اور ملک آصف احمد نسوانہ نے دلائل دیے۔
وکیل ملک آصف احمد نسوانہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شاہ ریز ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ایتھلیٹ ہے اور اس کا پی ٹی آئی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہ ریز کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کا بھانجا ہے۔ ان کے مطابق ملزم کو دو سال بعد مقدمے میں شامل کیا گیا ہے جو قانونی طور پر درست نہیں، اس لیے ملزم کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔سماعت کے دوران شاہ ریز کی والدہ علیمہ خان اور خالہ عظمٰی خان بھی عدالت میں موجود تھیں جبکہ ان کے والد سہیل امیر خان بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی درخواست پر شاہ ریز کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔