کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی۔
کراچی سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ شہزاد خواجہ کی عدالت میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جیل حکام نے ملزم ساحر حسن کو عدالت پیش کر دیا، جہاں پولیس نے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرایا۔ عدالت نے ملزم کو مقدمے کی نقول فراہم کر دیں اور فرد جرم کے لیے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کی۔یاد رہے کہ ساحر حسن پر 500 گرام سے زائد ویڈ گانجا برآمد ہونے کا الزام ہے، اور وہ عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت جاری رکھتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کی۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کی درخواست کا تنازعہ طے کر لیا اور معاملہ آئینی بینچ کو بھیج دیا۔
ہائیکورٹ میں لارجر بینچ کے روبرو منشیات کیس کے ملزم ساحر حسن کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس پر لارجر بینچ نے درخواست کی سماعت کے تنازعے کو حل کرتے ہوئے اسے آئینی بینچ کے دائرہ سماعت میں قرار دیا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزم ساحر حسن کی درخواست ضمانت آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزم کی درخواست آئین کے آرٹیکل 199 سب سیکشن ون سی کے تحت آتی ہے، جس کے تحت بنیادی حقوق کے معاملات آئینی بینچ میں سنے جا سکتے ہیں۔ ملزم کی درخواست 24 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ میں ملزمان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی راستے موجود ہیں، اور آئینی بینچ کی مداخلت سے اہم قانونی مسائل کی وضاحت ہو گی۔