معروف اداکار ساجد حسن نے اپنے بیٹے ساحر حسن کے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملوث ہونے کے معاملے پر میڈیا سے گفتگو کی۔
والد کا مؤقف
ساجد حسن نے کہا کہ ان کے بیٹے کو بغیر کسی ثبوت کے مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ مصطفیٰ عامر کا قتل افسوسناک واقعہ ہے، اور وہ مصطفیٰ کی والدہ کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا مطالبہ ہے کہ کیس کا منصفانہ ٹرائل ہو اور اصل مجرموں کو سزا دی جائے۔
منشیات کے الزامات
پولیس کے مطابق ساحر حسن کو منشیات کی خرید و فروخت کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ 13 سال سے منشیات استعمال کر رہا تھا اور 2 سال سے فروخت بھی کر رہا تھا۔ساحر نے بتایا کہ وہ ہر ہفتے 4 سے 5 لاکھ روپے کی منشیات فروخت کرتا تھا۔اس کا کاروبار سوشل میڈیا، خاص طور پر اسنیپ چیٹ پر چلتا تھا۔پولیس کے مطابق ساحر نے 12 سے زائد کلائنٹس کے نام بھی بتائے ہیں۔
وکلاء کی وضاحت
ساجد حسن کے وکلاء کا کہنا ہے کہ قتل کیس اور منشیات کے معاملے کو الگ الگ دیکھا جائے۔ ان کے مطابق، دونوں معاملات کو جوڑ کر پیش کرنا اصل کیس سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
سماجی ردعمل اور ساجد حسن کی مشکلات
اداکار نے بتایا کہ:وہ کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں اور ان کا کام بند ہو چکا ہے۔محلے والوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہے۔معاشرے نے انہیں اور ان کے بیٹے کو پہلے ہی مجرم سمجھ لیا ہے۔ان کے بیٹے کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی، اور ہو سکتا ہے کہ اس سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں، لیکن اسے قتل کیس میں ملوث کرنا درست نہیں۔
عدالت پر اعتماد
ساجد حسن نے کہا کہ وہ عدالت پر پورا یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انصاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ:"دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔"انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت ان کے بیٹے کو بے گناہ ثابت کرے گی اور اصل مجرموں کو سزا دی جائے گی۔
پولیس کی کارروائی
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں پولیس نے ڈیفنس کے مختلف علاقوں میں آپریشن کر کے ساحر حسن سمیت 4 نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ تفتیش کے دوران ساحر سے منشیات بھی برآمد کی گئی ہے۔
میڈیا کے کردار پر ساجد حسن کی رائے
ساجد حسن نے کہا کہ وہ ایک اداکار ہیں اور چاہیں تو میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا بیٹا عدالت کے سامنے ہے، اور انہیں انصاف پر بھروسہ ہے۔