امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی رابطے بڑھانا چاہتے ہیں وزیر خزانہ

امریکی مصنوعات پر پاکستان میں کوئی غیر ضروری جانچ پڑتال یا رکاوٹیں ہیں تو اس کا جائزہ لینے کے لئے تیار ہیں:بلوم برگ کو انٹرویو

وزیرخزانہ کی  آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالیناجارجیوا سے ملاقات ، سٹاف لیول معاہدہ طے پانے اور آر ایس ایف کے آغاز پر شکریہ ادا کیا
واشنگٹن(آئی این پی)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے  ہم امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی روابط بڑھانا چاہتے ہیں۔عالمی جریدے بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے، جلد ہی ایک سرکاری وفد امریکا جائے گا۔ ہم امریکا کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاشی روابط بڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا سے مزید کپاس اور سویا بین خریدنے کا خواہش مند ہے۔ اسی طرح غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے تاکہ امریکی مصنوعات کے لیے پاکستانی منڈیوں کے دروازے کھل سکیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات پر پاکستان میں کوئی غیر ضروری جانچ پڑتال یا رکاوٹیں ہیں تو اس کا جائزہ لینے کو بھی تیار ہیں۔ پاکستان میں امریکی فرموں کی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے۔محمد اورنگزیب نے انٹرویو میں مزید کہا کہ خصوصی طور پر کان کنی اور معدنیات کے نئے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ دریں اثناء وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے افتتاحی دن اہم ملاقاتیں ہوئیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی سالانہ اسپرنگ میٹنگز 2025 کے پہلے دن آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالیناجارجیوا سے ملاقات کی۔ وزیرِ خزانہ نے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے اور آر ایس ایف کے آغاز پر شکریہ ادا کیا۔ ادارہ جاتی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔ محمد اورنگزیب نے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری خزانہ رابرٹ کیپروتھ کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کیمعاشی اشاریوں میں بہتری سے آگاہ کیا ۔ ٹیکس نظام ، سرکاری اداروں ، پنشن اور قرضوں کے انتظام سیمتعلق جاری اصلاحات کا بھی بتایا ۔ ورلڈ بینک گروپ کیصدر اجے بانگا سیملاقات میں آبادی میں اضافے اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو اہم قرار دیا ۔