پاکستان، انڈونیشیا تعلقات 75 سال پر مبنی ، ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں،دونوں ملک تمام میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں:وزیراعظم

انڈونیشیا کیساتھ7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط پاکستان جلد قرضوں سے نجات حاصل کر لے گا شہبازشریف
انڈونیشیا کے صدر کے ساتھ بات چیت انتہائی مثبت اورتعمیری رہی،  پاکستانی ڈاکٹرز،میڈیکل پروفیسرز اورماہرین کوانڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا‘غزہ میں  جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں:وزیر اعظم 
پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کوفروغ دیں گے‘ شہبازشریف کو دورہ  کی دعوت دیتا ہوں، انڈونیشیا کے صدر پرابووسو بیانتو کی پریس کانفرنس 
 وزیر اعظم ہائوس آمد پر انڈونیشیا کے صدر ابوووسوبیانتو  کا  شاندار استقبا ل، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں ملکو ں کے قومی ترانے بجائے گئے،انڈونیشی صدر نے وزیراعظم ہائوس کے احاطے میں پودا لگایا‘وزیراعظم نے ظہرانہ دیا
 اسلام آباد (آئی این پی )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے  پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات 75 سال پر مبنی ہیں، دونوں ممالک کے  تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، تمام میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں ، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں  جبکہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون  کیلئے  7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیئے گئے۔تفصیل کے مطابق  پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انڈونیشیا کے صدر پرابووسو بیانتو نے منگل کو  یہاں وزیر اعظم شہبازشریف سے ملاقات کی ۔ دونوں رہنمائو ں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں، تعلیم اور ثقافت سے متعلق شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے علاوہ علاقائی اور عالمی سطح پر شراکت داری کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم ہائوس آمد پر انڈونیشیا کے صدر ابوووسوبیانتو کے اعزاز میں وزیراعظم ہائو س میں شاندار استقبالیہ دیا گیا، معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کیا، برادر اسلامی ممالک انڈونیشیا کے صدر ابووسو بیانتو کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا‘ انڈونیشی صدر نے وزیراعظم ہائوس کے احاطے میں پودا لگایا۔ملاقات کے بعد  مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدیدکہتا ہوں، انڈونیشیا کے کسی بھی صدر کا یہ 7سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے، صدرپرابوووسوبیانتوانڈونیشیا کے مدبر رہنما ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آج کی بات چیت انتہائی مثبت اورتعمیری رہی، میڈیکل،ہیلتھ،ووکیشنل ٹریننگ میں تعاون پر بات چیت ہوئی، ہم نے باہمی تجارت میں توازن پر بات چیت کی، پاکستانی ڈاکٹرز،میڈیکل پروفیسرز اورماہرین کوانڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورانڈونیشیا کے تعلقات کی تاریخ 75سال پر مبنی ہے، پاکستان اورانڈونیشیا کے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، انڈونیشیا کی حکومت اورعوام نے جنگ میں پاکستان کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا، پاکستان اورانڈونیشیا کی دوستی ہر آزمائش میں پوری اتری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، انڈونیشیا صدر کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے۔اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوووسو بیانتو نے کہا کہ پاکستان میں شاندارمیزبانی اوراستقبال پر شکریہ اداکرتا ہوں، پاکستان کی فضائی حدودمیں جے ایف17طیاروں کی سلامی میرے لیے اعزاز ہے، ہم نے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے معاہدوں اورایم اویوز کاتبادلہ کیا۔صدر پرابوووسو بیانتو نے کہا کہ پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کوفروغ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر پاکستان اور انڈونیشیا نے مشترکہ موقف اپنایا، وزیراعظم شہبازشریف کو دورہ انڈونیشیا کی دعوت دیتا ہوں۔قبل ازیں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے‘دریں اثناء وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا ہے اصلاحاتی ایجنڈے کے نفاذ اور پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی معاونت کا کلیدی کردار ہے، انشا اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان قرضوں سے مکمل نجات حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل ہوگا۔ آئی ایم کی جانب سے حالیہ مالی اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور ترقی کیلئے ضروری اقدامات پر عملدرآمد کر رہا ہے، ڈیفالٹ کے دہانے سے ملک کو استحکام اور ترقی کی سمت میں گامزن کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کیلئے سب نے مل کر قربانی دی