پشاور: کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ نے تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے سنٹرل پولیس آفس ارسال کردی، جس میں دھماکے کے مقام، شدت، استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد اور حملے کے بعد کی صورتحال سے متعلق اہم تفصیلات شامل ہیں۔
بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے دھماکے کے مرکز کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ استعمال کیے گئے دھماکا خیز مواد کی نوعیت اور مقدار کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں بننے والے گڑھے کا ظاہری قطر 6.6 فٹ بائی 11 فٹ جبکہ اس کی گہرائی 4.6 فٹ تھی۔رپورٹ کے مطابق دھماکے میں مجموعی طور پر تقریباً 869 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حکام نے دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ابتدائی شناخت بھی کرلی ہے، جبکہ واقعے میں انتہائی طاقتور نوعیت کا دھماکا خیز مواد استعمال کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے۔بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکے کے بعد اسپیشل برانچ کی عمارت کے اندر سے غیر پھٹا ہوا دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ کلیئرنس کارروائی کے دوران گراؤنڈ فلور سے 2 آئی ای ڈیز برآمد کی گئیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسپیشل برانچ کی عمارت کی پہلی منزل سے ایک خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی، جس میں 4 آئی ای ڈیز نصب تھیں۔ بم ڈسپوزل ٹیم نے کارروائی مکمل کرکے علاقے کو کلیئر کیا، جس کے بعد اسے محفوظ اور کنٹرولڈ قرار دے دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے پرانی پولیس لائنز کوہاٹ میں داخل ہوکر مسلح حملہ کیا۔ حملہ آور بعد ازاں اسپیشل برانچ بلاک میں مضبوط مورچہ زن ہوگئے، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے خلاف کارروائی کی۔حکام کے مطابق واقعہ 18 ستمبر کو پرانی پولیس لائنز کوہاٹ میں پیش آیا تھا۔ دھماکے کی نوعیت اور حملے کے طریقہ کار کے حوالے سے بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کو تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن کیا گیا، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کرکے حملے میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔