پشاور: پولیس لائنز دھماکے کے 3 سہولت کار 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے

پشاور: پولیس لائنز دھماکے کے 3 سہولت کار 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کاروں کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا ہے۔

 پولیس لائنز دھماکے میں ملوث تین سہولت کاروں کو انسداد دہشت گردی عدالت پشاور میں پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان عنایت الرحمان، عبد الصابر، اور عثمان خان پر پولیس لائنز دھماکے میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ ان ملزمان کا تعلق پشاور کے مختلف علاقوں سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث دہشت گردوں کی مدد فراہم کی تھی۔ تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ ان ملزمان سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ساتھیوں اور دھماکے کے پیچھے موجود دیگر عناصر کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔عدالت میں ملزمان کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے، تاہم عدالت نے تفتیش کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ملزمان کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ تینوں ملزمان پشاور کے مختلف علاقوں کے رہائشی ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس لائنز دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی تھی۔ عدالت نے مزید تفتیش کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی اجازت دی، تاکہ اس کیس میں مزید اہم معلومات حاصل کی جا سکیں۔پولیس لائنز دھماکہ پشاور میں ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ تھا، جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے بعد، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں یہ تین سہولت کار بھی شامل ہیں۔