پشاور ہائی کورٹ نے پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کار کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

پشاور ہائی کورٹ نے پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کار کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

پشاور ہائی کورٹ نے پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کار امتیاز عرف تورہ شپہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔

درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ملزم اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکا، جبکہ اس کے خاندان کے افراد کا تعلق بھی کالعدم تنظیموں سے رہا ہے۔

عدالتی فیصلہ:
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس لائنز دھماکے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے، ایسے میں درخواست گزار کو ضمانت دینا ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ ملزم کی یہ تیسری درخواست ضمانت تھی، اور اگر اسے رہا کیا گیا تو اس کے دوبارہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔

ملزم کی پسِ منظر معلومات:
عدالتی فیصلے کے مطابق، درخواست گزار امتیاز عرف تورہ شپہ کا تعلق افغانستان سے ہے، اور اس کے خاندان کے کئی افراد ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جبکہ بعض کالعدم تنظیموں کے ساتھ وابستگی کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

وکیلِ صفائی کا مؤقف:
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی عمر 18 سال ہے اور پراسیکیوشن 6 ماہ میں بھی اس کا ٹرائل مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم، عدالت نے تمام شواہد اور کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست ضمانت مسترد کر دی۔