کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکا، 5 اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید

کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکا، 5 اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید

کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پشاور روڈ پر واقع پرانی پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز اور مبینہ دہشتگردوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، جبکہ واقعے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 7 جاں بحق افراد اور 30 سے زائد زخمیوں کو ریسکیو ایمبولینسز کے ذریعے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، جس میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز اور ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن جاری
حکام کے مطابق پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا فتنہ الخوارج کے مبینہ دہشتگردوں کے خلاف مقابلہ جاری ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد سنائپر بھی ہلاک ہوا ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ پولیس لائنز کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں تضاد
دوسری جانب موصولہ اطلاعات میں دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم ریسکیو 1122 کی جانب سے فی الحال 7 جاں بحق افراد کی منتقلی کی تصدیق کی گئی ہے۔اس لیے واقعے میں مجموعی ہلاکتوں کی حتمی تعداد سرکاری طور پر تصدیق اور اسپتالوں سے موصول ہونے والی معلومات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

آئی جی پولیس کا عزم
آئی جی خیبر پختونخوا پولیس نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ سکیورٹی ادارے علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور جانی نقصان سے متعلق حتمی معلومات حکام کی جانب سے جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئیں گی۔