کرتارپور میں بابا گورو نانک کی برسی کی تقریبات کا آخری روز، دنیا بھر سے سکھ یاتری شریک

کرتارپور میں بابا گورو نانک کی برسی کی تقریبات کا آخری روز، دنیا بھر سے سکھ یاتری شریک

نارووال: کرتارپور میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کے سلسلے میں تین روزہ مذہبی تقریبات کا آخری روز جاری ہے۔

 دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور پہنچے اور مذہبی رسومات میں شرکت کی۔ کینیڈا، برطانیہ، امریکا سمیت مختلف ممالک اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے یاتریوں نے بابا گورو نانک کی سمادھی اور قبر پر حاضری دی، چادریں چڑھائیں اور دعائیہ تقریبات میں شرکت کی۔ انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں کے قیام، کھانے پینے، طبی امداد اور سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ گوردوارہ اور کرتارپور شہر کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی کی جا رہی ہے۔سکھ یاتریوں نے کرتارپور میں انتظامات اور سہولیات پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سہولیات فراہم کی گئیں۔ یاتریوں نے کرتارپور کو سکھ برادری کے لیے انتہائی اہم مذہبی مقام قرار دیتے ہوئے یہاں اپنے روحانی عقیدے کے مطابق رسومات ادا کیں۔تقریبات کے دوران نگر کیرتن بھی منعقد کیا گیا، جس میں یاتری گوردوارہ دربار صاحب سے پاکستان بھارت سرحد کی جانب گئے اور مذہبی رسومات ادا کیں۔

دوسری جانب بھارتی سکھ یاتریوں کی جانب سے کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتی جانب سے راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمد و رفت مئی 2025 سے معطل ہے، جبکہ حالیہ برسی کی تقریبات کے موقع پر دونوں جانب سکھ برادری نے راہداری کی بحالی کے لیے دعاؤں اور اپیلوں کا اہتمام کیا۔آج آخری دعائیہ اور مذہبی تقریبات مکمل ہونے کے بعد بیرونِ ملک سے آنے والے سکھ یاتری کرتارپور سے اپنی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوں گے۔ انتظامیہ کے مطابق تقریبات کے دوران یاتریوں کی سہولت اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات برقرار رکھے گئے ہیں۔