وفاقی بجٹ کے بعد گاڑیاں اور بائیکس مزید مہنگی، صارفین پر بوجھ بڑھ گیا

وفاقی بجٹ کے بعد گاڑیاں اور بائیکس مزید مہنگی، صارفین پر بوجھ بڑھ گیا

وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد آٹو انڈسٹری میں قیمتوں کا نیا طوفان آگیا ہے۔

مختلف کار ساز اور موٹر بائیک کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے متوسط اور غریب طبقے پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق بجٹ میں عائد کیے گئے نئے ٹیکسز اور درآمدی پرزہ جات پر ڈیوٹیز میں اضافے کے باعث کمپنیوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ بعض کمپنیوں نے گاڑیوں کی قیمت میں ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک جبکہ موٹر سائیکلوں کی قیمت میں 10 ہزار سے 25 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔

کار ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ گاڑیوں کی فروخت کو مزید کم کر دے گا کیونکہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث خریداروں کی قوتِ خرید متاثر ہے۔ دوسری جانب بائیک کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ خام مال مہنگا ہونے اور روپے کی قدر میں کمی کے سبب قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔صارفین نے شکایت کی ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے اور اب موٹر سائیکل جیسی بنیادی سواری بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے۔