لاہور: ملک بھر میں سوئی گیس کے کم پریشر اور مسلسل قلت کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ متبادل ایندھن ایل پی جی بھی مہنگی ہونے کے ساتھ کئی علاقوں میں مبینہ طور پر سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں کے مطابق سوئی گیس کی غیر یقینی فراہمی کے باعث انہیں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف شہروں اور بازاروں میں ایل پی جی 400 سے 430 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سرکاری طور پر اس کی قیمت 241 روپے فی کلو مقرر ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کئی علاقوں میں ایل پی جی مبینہ طور پر بلیک میں فروخت کی جا رہی ہے، جس سے عام شہری اضافی مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔شہریوں نے شکایت کی کہ وہ باقاعدگی سے سوئی گیس کے بھاری بل ادا کرتے ہیں، لیکن کم پریشر اور گیس کی بندش کے باعث انہیں مہنگے داموں ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال خصوصاً متوسط اور سفید پوش طبقے کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، جن کے لیے روزمرہ گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ ضروری اشیائے خورونوش اور یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے کے بعد مہنگی ایل پی جی نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے، جبکہ گیس کی مسلسل قلت نے روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، ایل پی جی سرکاری نرخوں پر دستیاب کرائی جائے اور ناجائز منافع خوری و بلیک مارکیٹنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔