تصور حسین شہزاد
پولیس سے بوڑھے اہلکاروں کو فارغ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس فورس میں جنگی بنیادوں پر اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ پولیس سے نکلنے والی فورسز جیسا کہ سی سی ڈی، سی ٹی ڈی، اینٹی رائٹ فورس سمیت دیگر فورسز بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جبکہ تھانوں کی پولیس کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو تحفظات ہیں۔ حکام یہ سمجھتے ہیں کہ جرائم کی شرح میں کمی نہ آنے کی ذمہ دار تھانوں کی پولیس کے کچھ اہلکار ہیں۔ یہ کالی بھیڑیں پورے ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔ اب پولیس کو بہترین فورس بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پولیس میں ’’ینگ بلڈ‘‘ آگے لایا جائے اور ’’بزرگ اہلکاروں‘‘ سے اب معذرت کر لی جائے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک تجویز یہ بھی زیرِغور ہے کہ 50 سال سے اوپر کے اہلکاروں کو گولڈن ہینڈ شیک دے دیا جائے۔ اس کے علاوہ جو اہلکار جسمانی طور پر فٹ نہیں ہیں، ان کو بھی فارغ کر دیا جائے۔ فورس میں صرف ایسے جوانوں کو رکھا جائے جو صحت مند اور مکمل فٹ ہوں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہوں۔ اس کیلئے ’’چھانٹی‘‘ کا عمل جلد شروع ہونے جا رہا ہے۔ سی سی ڈی کی شاندار کارکردگی سے جرائم پیشہ عناصر میں ایک خوف پایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی یہی چاہتی ہیں کہ پولیس کے خوف ہی ایسا ہو کہ کوئی جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ عادی جرائم پیشہ افراد کی پولیس مقابلوں میں ہلاکتیں اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنیوالے جنسی درندوں کے ’’نیفوں‘‘ میں پستول چلنے کے واقعات نے مجرمانہ ذہینت کے حامل افراد میں خوف پیدا کر دیا ہے، اور جرائم کی شرح میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اب یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پنجاب پولیس کی نفری میں کمی کر دی جائے اور کرائم فائٹرز اور جدید انویسٹی گیشن کرنیوالے افسران کو آگے لایا جائے۔ اس سے وہ بزرگ پولیس اہلکار جو بدعنوان سسٹم کا حصہ تھے، ان سے بھی نجات مل جائے گی اور نئے جوان خون کو بھی پرفارم کرنے کا موقع ملے گا۔ سی ایس ایس کرکے آنیوالے افسران کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ وہ رشوت ستانی کے بھی خلاف ہیں اور عوام کی داد رسی بھی ان کی خواہش ہے۔ اس لئے جتنے بھی ایس پی یا دیگر رینکس کے افسران بذریعہ سی ایس ایس پولیس کے محکمے میں آئے ہیں، انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اپریل2025 میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ جسے عرف عام میں سی سی ڈی کہا جاتا ہے، قائم کیا گیا تھا، جس کی چار ہزار کی نفری نے سنگین جرائم پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے۔ بلکہ ایک دن تو ایسا بھی آیا جب پورے صوبے میں کوئی جرم نہیں ہوا، صرف ایک موٹرسائیکل چھیننے کا واقعہ پیش آیا۔ سی سی ڈی کا بجٹ ساڑھے چار ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ریگولر پولیس کی نفری دو لاکھ 25 ہزار 300 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے پنجاب میں 720 تھانے ہیں اوران کا بجٹ 235 ارب روپے ہے۔ لیکن اس فورس کی کارکردگی سی سی ڈی کے مقابلے میں صرف دس سے پندرہ فیصد بتائی جا رہی ہے۔ اس وقت پولیس فورس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے افسر ہیں اور چاہتے ہیں کہ پولیس فورس کا وقار بلند ہو، معاشرے میں لوگ فورس کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس فورس کی بہتری کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے مالی
مسائل حل کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ رشوت اور ناجائز ذرائع کی طرف نہ جائیں۔ لاہور کی اگر بات کی جائے، تو یہاں بدعنوانی کا کافی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ افسران عام آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ اگر کسی تھانے کا کوئی اہلکار رشوت کا مطالبہ کرتا ہے تو فوری طور پر سی سی پی او یا آئی جی کو شکایت کی جا سکتی ہے۔ یا ڈی آئی جیز اور ایس پیز بھی گاہے بگاہے کھلی کچہریاں لگاتے رہتے ہیں اور عوام کی شکایات سننے کیلئے اپنے دفاتر میں ’’اوپن ڈور پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہیں۔ جس کے باعث لاہور کے پولیس اہلکار اب رشوت لینے سے کتراتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے اہلکار اب بھی فورس میں شامل ہیں، جو رشوت لینا ’’فرضِ منصبی‘‘ سمجھتے ہیں۔ دیگر اضلاع میں لاہور کی نسبت رشوت خوری کی شرح کچھ زیادہ ہے۔ ان اضلاع میں سرگودھا، جھنگ، چنیوٹ، ڈی جی خان، خانیوال سمیت کچھ اضلاع ایسے ہی جہاں ’’لین دین‘‘ کے معاملات کی شرح دیگر اضلاع کی نسبت زیادہ ہے۔ جب شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، وہ بھی چاہتے تھے کہ پولیس فورس میں اصلاحات کرکے تبدیلی لے آئیں۔ وہ تو پورا پولیس سسٹم تبدیل کرنا چاہتے تھے، اور انہوں نے تو مینارپاکستان گراونڈ میں پولیس اہلکاروں سے حلف بھی لے لیا تھا کہ وہ رشوت نہیں لیں گے، مگر اس میں انہیں خاطرخواہ کامیابی نہ مل سکی۔ اب مریم نواز کیساتھ ان کی بیوروکریسی کی ٹیم مضبوط ہے۔ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ مریم نواز کو جو ٹیم ملی ہے، اس میں ایماندار افسران ہیں، جو بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ اور اس کے ثمرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس بار سیلاب میں بلاتفریق تمام اضلاع میں ڈی پی اوز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تاریخ میں پہلی بار پولیس نے سیلاب متاثرین کی مدد میں شاندار کارکردگی دکھائی، البتہ کچھ اضلاع میں ڈی سیز کا کردار قابل ستائش نہیں رہا، جس میں جھنگ اور مظفر گڑھ کے ڈپٹی کمشنرز سرفہرست ہیں۔ دونوں مذکورہ اضلاع کے عوام اپنے اپنے ضلع کے ڈی سیز سے نالاں ہیں۔ کسی بھی ملک کا چہرہ اس کی پولیس فورس ہوتی ہے۔ حالیہ اصلاحات کے بعد توقع کی جا سکتی ہے، کہ پنجاب میں تبدیلی آئے گی۔ جرائم کی شرح ضرور کم ہوگی۔ کیونکہ ڈاکٹر عثمان انور نے تہیہ کر رکھا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرکے ہی دم لینا ہے۔ معاشرے کیساتھ ساتھ وہ پولیس فورس میں بھی ’’صفائی آپریشن‘‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔