عبداللہ ملک
خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد، زیادتی اور دیگر سنگین جرائم ہمارے معاشرے کے لیے ایک انتہائی تشویشناک مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے جرائم صرف ایک فرد یا ایک خاندان کو متاثر نہیں کرتے بلکہ پورے معاشرے کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔دستیاب اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سال 2025 میں ملک میں 8,553 ریپ اور 1,922 اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ جنوری سے جون 2026 تک 4,446 ریپ اور 940 اجتماعی زیادتی کے واقعات سامنے آئے۔ اسی عرصے میں ریپ کے بعد قتل کے 14 واقعات اور ونی کے 2 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ماضی کے بعض ادوار میں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح تقریباً 5 فیصد کے قریب رہی، جو نظامِ انصاف اور تفتیشی عمل کی کمزوریوں پر سنجیدہ غور کی متقاضی ہے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جنسی تشدد کے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ معاشرتی دباؤ، بدنامی کا خوف، متاثرہ خواتین اور بچوں کو دھمکیاں، پولیس سے عدم تعاون کا خدشہ اور طویل قانونی کارروائی جیسے عوامل متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس لیے صرف درج شدہ مقدمات کو مسئلے کی مکمل تصویر نہیں سمجھا جا سکتا۔حکومت پنجاب کی جانب سے خواتین کے خلاف ہراسانی اور تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس، پراسیکیوشن، فرانزک اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کی استعدادِ کار کو بھی مسلسل بہتر بنایا جائے۔جنسی جرائم کے مقدمات میں سب سے اہم مرحلہ ابتدائی تفتیش ہوتا ہے۔ اگر جائے وقوعہ سے شواہد بروقت محفوظ نہ کیے جائیں، فرانزک اور ڈی این اے شواہد درست طریقے سے حاصل نہ ہوں، متاثرہ خاتون یا بچے کا بیان حساس اور قانونی تقاضوں کے مطابق ریکارڈ نہ کیا جائے یا تفتیش میں تاخیر ہو تو بعد میں عدالت میں ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ ہر تھانے میں ایسے تربیت یافتہ افسران موجود ہوں جو جنسی جرائم کے متاثرین سے انسانی ہمدردی، احترام اور قانونی تقاضوں کے مطابق معاملہ کر سکیں۔ خواتین پولیس افسران کی پیشہ ورانہ اور حساسیت پر مبنی تربیت کے ساتھ ساتھ مرد تفتیشی افسران کی بھی خصوصی تربیت ناگزیر ہے۔یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف خواتین پولیس افسران کی موجودگی کافی نہیں۔ اگر مرد تفتیشی افسران بھی ایسے مقدمات کی حساسیت، متاثرہ افراد کے حقوق، شواہد کے تحفظ، فرانزک تقاضوں اور قانونی طریق? کار سے مکمل طور پر آگاہ نہ ہوں تو انصاف کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس افسران کو Anti-Rape Laws، متعلقہ SOPs، فرانزک شواہد، ڈی این اے ٹیسٹنگ، متاثرین کے تحفظ، بچوں سے متعلق حساس تفتیش اور عدالت میں قابلِ قبول شواہد کی تیاری کے حوالے سے باقاعدہ تربیت دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خواتین اور بچوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنی شکایت درج کرا سکیں۔ پولیس اسٹیشن میں ان سے ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے جس سے وہ خود کو ملزم یا قصوروار سمجھنے لگیں۔ جنسی جرم کا شکار ہونے والا شخص پہلے ہی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزر رہا ہوتا ہے؛ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے لیے مزید تکلیف کا باعث نہ بنیں۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن کی مؤثر نگرانی کرے، غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کرے اور جہاں پولیس یا تفتیشی افسر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے وہاں محض تبادلے کے بجائے واضح احتساب کیا جائے۔اسی طرح فرانزک لیبارٹریز اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط، تیز اور قابلِ اعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔ جدید سائنسی شواہد ایسے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت صرف ملزمان کے خلاف کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ متاثرین کی بحالی، قانونی معاونت، نفسیاتی مدد اور تحفظ کے لیے بھی مؤثر نظام قائم کرے۔وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے خواتین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے خاتمے کے عزم کو عملی شکل دینے کے لیے سول سوسائٹی کی یہ تجویز ہے کہ پولیس کے اندر خواتین اور مرد دونوں تفتیشی افسران کی باقاعدہ capacity building اور professional training کا مستقل پروگرام شروع کیا جائے۔ ایسے افسران کو جنسی جرائم کی تفتیش کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ بنایا جائے اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ خواتین اور بچوں کا تحفظ صرف پولیس یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم ریاستی اداروں پر اس حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ شہری اپنے تحفظ اور انصاف کے لیے انہی اداروں سے رجوع کرتے ہیں۔اگر ہم واقعی خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تین بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا: فوری رپورٹنگ، مؤثر تفتیش اور یقینی انصاف۔مجرم کو سزا دینا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ایسا مضبوط نظام قائم کیا جائے جس میں جرم کی بروقت نشاندہی ہو، متاثرہ شخص کو تحفظ ملے، شواہد محفوظ رہیں، تفتیش میرٹ پر ہو اور عدالت کے سامنے مضبوط مقدمہ پیش کیا جائے۔ریاست کی اصل کامیابی صرف اس وقت نہیں ہوگی جب کسی مجرم کو سزا ملے، بلکہ اس وقت ہوگی جب ایک عورت، ایک بچی یا ایک بچہ یہ اعتماد محسوس کرے کہ اگر اس کے ساتھ ظلم ہوا تو ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، اسے انصاف ملے گا اور اس کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جائے گا۔