عبداللہ ملک
پاکستان میں گداگری کا مسئلہ اب محض غربت اور بے روزگاری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سنگین سماجی، معاشی اور انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں، بالخصوص لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور دیگر شہری علاقوں میں ٹریفک سگنلز، بازاروں، مساجد، مزارات اور تجارتی مراکز پر بھیک مانگنے والوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض مقامات پر گداگری ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں خواتین، معذور افراد اور کم عمر بچوں کو استعمال کرکے مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر بھیک مانگنے والا شخص پیشہ ور بھکاری یا کسی جرائم پیشہ گروہ کا حصہ نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو غربت، بیماری، معذوری، بے روزگاری اور بے گھری کے باعث دوسروں سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ ہمدردی، سماجی تحفظ اور ریاستی معاونت کے مستحق ہیں۔ تاہم دوسری طرف ایسے منظم گروہ بھی موجود ہیں جو گداگری کو باقاعدہ کاروبار بنا کر بچوں اور کمزور طبقات کا استحصال کرتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں واضح فرق کرنا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔
گیلپ پاکستان کی جنوری 2025 کی رپورٹ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ 785 افراد پر مشتمل سروے کے مطابق 71 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کسی بھکاری کو رقم دی، جبکہ 84 فیصد کا خیال تھا کہ بھیک مانگنے کے طریقے پہلے سے زیادہ جارحانہ اور دباؤ ڈالنے والے ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 18.7 ملین پاکستانی روزانہ کسی نہ کسی بھکاری کو رقم دیتے ہیں اور روزانہ تقریباً 374 ملین روپے بھیک کی صورت میں تقسیم ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر سالانہ رقم کا تخمینہ تقریباً 136 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ اعدادوشمار بھکاریوں کی تعداد نہیں بلکہ عوام کی جانب سے دی جانے والی رقم کا سروے پر مبنی تخمینہ ہیں۔
پاکستان میں پیشہ ورانہ گداگری میں ملوث افراد کی مجموعی تعداد کے حوالے سے تاحال کوئی مستند اور جامع قومی سروے دستیاب نہیں۔ بعض حلقوں میں 38 ملین بھکاریوں کی تعداد بیان کی جاتی ہے، لیکن اس دعوے کی قابل اعتماد سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک گیر سروے کرائے تاکہ حقیقی مستحق افراد، پیشہ ور بھکاریوں اور منظم گداگری کے نیٹ ورکس کی درست تعداد معلوم ہو سکے۔
پولیس کی کارروائیاں بھی اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔ لاہور پولیس کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق 1,324 پیشہ ور بھکاری گرفتار کیے گئے اور 1,310 مقدمات درج کیے گئے۔ اسلام آباد پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یکم فروری 2025 سے 31 جنوری 2026 تک گداگری کے خلاف کارروائیوں میں 4,274 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ 345 ایف آئی آر درج ہوئیں۔ یہ اعدادوشمار مختلف علاقوں اور ادوار سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں قومی سطح پر بھکاریوں کی مجموعی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گداگری کا مسئلہ کس قدر پھیل چکا ہے۔
اس مسئلے کا سب سے افسوس ناک پہلو بچوں کا استحصال ہے۔ کم عمر بچوں کو ٹریفک سگنلز اور بازاروں میں بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بعض بچوں کو والدین یا سرپرست بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں منظم گروہ بچوں کو اپنے قبضے میں رکھ کر ان سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بچوں کو معذور ظاہر کرنا، تشدد کا نشانہ بنانا یا نشہ آور اشیا دینا انتہائی سنگین جرائم ہیں۔ اس عمل سے بچے تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر مستقبل کے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کا آئین انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 9 زندگی اور شخصی تحفظ، آرٹیکل 11 جبری مشقت اور انسانی استحصال کی ممانعت، آرٹیکل 14 انسانی وقار، آرٹیکل 25 مساوات اور آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا حق فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 37 اور 38 بھی ریاست کو سماجی انصاف اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔
پنجاب میں The Punjab Destitute and Neglected Children Act, 2004 اس حوالے سے اہم قانون ہے۔ اس کی دفعہ 24 کے تحت بھیک مانگتے ہوئے پائے جانے والے بچے کو تحفظ اور بحالی کے لیے متعلقہ اداروں کی تحویل میں لینے کا طریقہ موجود ہے۔ دفعہ 36 کے تحت کسی بچے کو بھیک مانگنے کے لیے ملازم رکھنا، اس سے بھیک منگوانا یا اس عمل کی حوصلہ افزائی کرنا قابل سزا جرم ہے۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت اس جرم پر تین ماہ سے پانچ سال تک قید اور دس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ دفعہ 36-A بچوں کو بھیک مانگنے کی غرض سے اشیا فروخت کرنے پر لگانے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 37 بچے کو نشہ آور اشیا دینے کے عمل کو جرم قرار دیتی ہے۔
وفاقی سطح پر Prevention of Trafficking in Persons (Amendment) Act, 2025 بھی ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، جس کے ذریعے منظم گداگری کو انسانی اسمگلنگ کے قانونی دائرے میں شامل کیا گیا۔ اس قانون کے تحت جبر، دھوکے یا استحصال کے ذریعے کسی شخص کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جرم کی نوعیت اور متاثرہ شخص کے زمرے کے مطابق اس قانون میں دس سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے، جبکہ بعض مخصوص صورتوں میں چودہ سال تک قید اور بیس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 374 غیر قانونی جبری مشقت لینے کو جرم قرار دیتی ہے، جس پر پانچ سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
یہ تمام قوانین اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں گداگری کے نام پر انسانی استحصال کے خلاف قانونی راستے موجود ہیں، تاہم اصل مسئلہ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔ محض بھکاریوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند کرنا یا ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنا مستقل حل نہیں۔ اصل ضرورت ان منظم گروہوں، سرپرستوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو بچوں، خواتین اور معذور افراد کو اپنے مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
حکومت پنجاب، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور محکمہ سوشل ویلفیئر کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ہر ضلع میں منظم گداگری کے خلاف خصوصی کارروائی کے لیے یونٹس قائم کیے جائیں۔ بچوں کو فوری تحفظ، تعلیم اور بحالی فراہم کی جائے، جبکہ ان سے بھیک منگوانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں۔ مستحق، معذور، بزرگ اور بے گھر افراد کے لیے بحالی مراکز، علاج، ہنر مندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ حقیقی مستحق افراد کی مدد مستند فلاحی اداروں کے ذریعے کریں اور بچوں یا کمزور افراد سے زبردستی بھیک منگوانے کے واقعات کی متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ تاہم کسی ضرورت مند کی تذلیل، تشدد یا غیر قانونی حراست کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
میری رائے میں پاکستان میں گداگری کے خاتمے کے لیے صرف پولیس آپریشن کافی نہیں۔ ایک قومی پالیسی، مستند اعدادوشمار، مؤثر قانونی کارروائی، سماجی تحفظ، تعلیم اور روزگار پر مشتمل جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکوں سے بھکاریوں کو ہٹانا نہیں بلکہ غربت اور محرومی کے اسباب کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔
بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا غربت نہیں بلکہ انسانی استحصال اور ان کے مستقبل کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے بجائے تعلیم، تحفظ اور باوقار زندگی فراہم کرے۔