چودھری فرحان شوکت ہنجرا
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 25 ایکٹر پر نیشنل پولیس اکیڈمی بنانے جا رہی ہے اس سے قبل ہم نے پاکستان کیپہلے سیف سٹی کا قیام عمل میں لائے ہیں وزیراعظم صاحب کے خطاب میں دلچسپ بات یہ تھی کہ جس میں وہ فرما رہے تھے کہ جب میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا تو پنجاب میں ایلیٹ فورس بنائی تھی اور یہ ایلیٹ فورس ایلیٹ طبقے کیلئے نہیں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں عوام کے جان ومال کی حفاظت کیلئے بنائی تھی لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب آپ کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور حکومت میں بنائی جانے والی ایلیٹ فورس آپ آپ کے خاندان ،وزرا مشیران بیوروکریسی عدلیہ کے ججز اور وی آئی پیز شخصیات کیلیے ایلیٹ فورس وقف کر دی گئی تھی ریٹائرڈ آئی جی پاکستان موٹر وے پولیس جب ایلیٹ فورس کے سربراہ تھے انہوں نے برملا اظہار کیا تھا کہ ایلیٹ فورس کو اس کے اصل مقصد مشن پر بھیجا جائے اس فورس کو پروٹوکول فورس کے طور پا استعمال کرنے سے اس کا مقصد ختم ہو رہا ہے لیکن حکومت نے ان کی توجہ پر کوئی دھیان نہیں دیا
ذاتی مشاہدہ کی بات ہے ایلیٹ فورس کو حکمرانوں افسران بالا کے اہل خانہ کو شاپنگ مالز پر پروٹوکول کے ساتھ آتے جاتے دیکھا گیا ہے کئی دفعہ میڈیا پر خبریں نشر ہوئی ہیں لیکن کسی حکومت اور سرکاری قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کا نوٹس اس لیے نہیں لیا کیونکہ ان کی ہی فیملیز تو پروٹوکول انجوائے کر رہی ہیں جو کہ شرمناک فعل ہے
ایلیٹ فورس کا قیام جب عمل میں لاکر اس فورس کو پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے ٹرینگ دے کر اس فورس کو تیار کیا تھا تو ایلیٹ فورس نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا تھا پنجاب کے دور دراز کے اضلاع کے تھانوی کی حدود میں جرائم پیشہ افراد اشتہاریوں کی شامت سی آگئی تھی عوام الناس کے ہر طبقے نے ایلیٹ فورس کی کارکردگی کو سراہا تھا عوام نے جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائی ہونے پر سکھ کا سانس لیا تھا لیکن نجانے کیا انہونی ہوئی کہ ایلیٹ فورس کو آہستہ آہستہ پنجاب کے تمام اضلاع سے واپس بلا لیا گیا اس فورس کے جاتے ہی سماج دشمنوں اشتہاریوں نیپھر سے اپنی کاروائیاں شروع کرکے عوام کا جینا دوبھر کرنا شروع کر دیا اور آج ایلیٹ فورس آپ کو اہم سرکاری عمارتوں سرکاری سول و پولیس افسروں بیوروکریٹس سیاستدانوں وزرا اور اعلیٰ حکام کی حفاظتی فورس کے طور پر نظر آئیں گے ان جوانوں کی توندیں باہر نکل آئی ہیں لہذا ایلیٹ فورس کو سرکاری طور پر پروٹوکول فورس کا سٹیٹس دے دینے میں اب کوئی قباحت نہیں ہے
دوسری جانب پنجاب کے ہی وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی صاحب نے اپنے پہلے دور حکومت پنجاب میں شاہراہوں پر محفوظ سفر کیلئے پیٹرولنگ پولیس پوسٹوں کے قیام کا منصوبہ پیش کیا اور ان کی حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ عوام میں بہت مقبول ہوا پنجاب بھر میں دور دراز کے اضلاع میں سڑکوں پر سفر کرنا محال ہو چکا تھا لوگوں میں رات کو سفر کرنے کا خوف تھا کیونکہ دوران سفر راہزن ڈکیت نہ صرف لوگوں کو لوٹتے تھے بلکہ قتل بھی کر دیتے تھے جو کہ بہت ہی تشویشناک امر تھا بہرحال جب سے پیٹرولنگ پولیس نے اپنے کام کا آغاز کیا عوام عزت و تکریم سے اپنی منزل تک پہنچتے
پیٹرولنگ پولیس عوام دوست پولیس بھی بن چکی ہے یہ مسافروں کی مدد گمشدہ افراد کی دادرسی اور کئی سفید پوش مسافر جن کے پاس سفر کرنے کیلئے رقم نہیں ہوتی ان نادار مسافروں کی مالی مدد کرتی ہے
پیٹرولنگ پولیس نے شاہراہوں پر اوورلوڈنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے اس کے علاؤہ ڈرائیونگ لائسنس بنانے کیلئے ڈرائیونگ لائسنس کاؤنٹر بھی بنا دیئے گئے ہیں لیکن دوسری طرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پیٹرولنگ پولیس پوسٹ فورس کو کم اہمیت دی جا رہی ہے
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صاحب ایڈیشنل آئی جی پیٹرولنگ پولیس اور دیگر جملہ افسران پیٹرولنگ پولیس فورس کو دیگر فورس کی طرح مراعات اور عوامی خدمت کیلئے فنڈز دینے کے اجراء کو یقینی بنائیں اور ایلیٹ فورس پولیس کو اس کے اصل مشن پے بھجیں اگر یہ نہیں ہوسکتا تو پھر ایلیٹ فورس کو ختم کریں وگرنہ یہ قومی دولت کا ضیاع ہے
پیٹرولنگ پولیس نے شاہراہوں پر سماج دشمن عناصر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے اور مسروقہ سامان بھی برآمد کرکے اصل مالکان کو ان کے حوالے کیا ہے پیٹرولنگ پولیس لاہور ریجن کی کارکردگی قابل ستائش ہے ہم ائی جی پنجاب پولیس سے استدعا کرتے ہیں کہ لاہور ریجن میں ضلع شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی میں کرتار پور روڈ پر پیٹرولنگ پولیس پوسٹ بنانے کی ایگزیکٹو اپروول ہو چکی ہے لہذا اس مالی سال میں نور مصطفیٰ پیٹرولنگ پوسٹ کی تعمیر کیلئے فنڈز کا اجراء کیا جائے تاکہ پاک بھارت بارڈر ایریا میں کرتار پور جانے والے مسافر بلاخوف سفر کر سکیں۔