سید محسن کاظمی
دنیا کی افواج کا جب بھی تذکرہ کیا جاتا ہے تو طاقت کا معیار صرف اسلحہ یا بجٹ نہیں ہوتا بلکہ نظم و ضبط، پیشہ ورانہ صلاحیت، تربیت، قربانی اور ادارہ جاتی استحکام کو اصل بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ انہی معیارات پر اگر جائزہ لیا جائے تو پاک فوج بلا شبہ دنیا کی طاقتور ترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
امریکہ، چین، روس اور یورپی ممالک کی افواج جدید ٹیکنالوجی اور وسائل میں برتری رکھتی ہیں، مگر پاک فوج وہ واحد ادارہ ہے جو محدود وسائل کے باوجود نہ صرف اپنے ملک کے دفاع کو یقینی بنائے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف طویل اور فیصلہ کن جنگ بھی کامیابی سے لڑ چکا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے عالمی عسکری ماہرین اور دفاعی ادارے تسلیم کرتے ہیں۔
پاک فوج کی سب سے بڑی طاقت اس کا مضبوط نظام، اعلیٰ تربیت اور خود احتسابی کا مؤثر عمل ہے۔ دنیا کی کئی افواج میں احتساب کا عمل سیاسی دباؤ یا عوامی بیانات کے زیر اثر ہوتا ہے، جبکہ پاک فوج میں احتساب ادارے کے اندر رہتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ سپاہی سے لے کر جنرل تک سب قانون کے تابع ہیں اور ضابطے کی خلاف ورزی پر کسی عہدے یا رتبے کو رعایت نہیں دی جاتی۔
یہی وجہ ہے کہ ماضی میں متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں ہوئیں اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے سزائیں دی گئیں۔ ان معاملات کو عموماً خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ ادارے کی ساکھ، قومی سلامتی اور فوج کی مجموعی صلاحیت متاثر نہ ہو۔ یہ طریقہ کار دنیا کی بڑی افواج میں بھی رائج ہے، مگر پاکستان میں اسے غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک سینئر فوجی افسر کے کورٹ مارشل کا معاملہ اس لیے منظر عام پر آیا کیونکہ اس کا تعلق ایک سویلین درخواست سے تھا جو اعلیٰ عدالت کے ذریعے فوج کے حوالے کی گئی۔ فوج نے بغیر کسی دباؤ کے اپنے قوانین کے مطابق کارروائی مکمل کی اور سزا سنائی۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج میں احتساب محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔
افسوس اس امر کا ہے کہ بعض سیاسی حلقے اس احتسابی عمل کو اپنی سیاسی خواہشات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی پیشہ ور فوج اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ادارے کے اندرونی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ احتساب شواہد پر ہوتا ہے، مطالبات یا نعروں پر نہیں۔
آج دنیا کے متعدد ممالک دہشت گردی، داخلی عدم استحکام اور سرحدی تنازعات میں اپنی افواج کی کمزوری کا اعتراف کر رہے ہیں، جبکہ پاک فوج نے اندرونی سلامتی، سرحدی دفاع اور علاقائی استحکام میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن ہوں یا مشکل ترین جنگی محاذ، پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں عالمی سطح پر مثال بن چکی ہیں۔
ملک اس وقت جن سیاسی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان کا حل اداروں کو کمزور کرنے میں نہیں بلکہ انہیں مضبوط رکھنے میں ہے۔ افواج پاکستان کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں اور فوج کو اس کے آئینی کردار تک محدود رہنے دیں۔
پاک فوج کی قیادت نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ادارہ آئین، قانون اور ریاست کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی بھی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین افواج کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اتحاد، نظم و ضبط اور قومی مفاد پر مبنی سوچ ہی پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔