کرسٹل فیکٹری میں ورکرز کام میں مصروف تھے کہ دھماکے سے آ گ لگ گئی
، 9 گھر تباہ ،خواتین، بچے ملبے تلے دب گئے ،7 زخمی ،فیکٹری مالک ،منیجرگرفتار
فیصل آباد(خصوصی رپورٹ)فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں واقعہ کیمیکل فیکٹری میں موجود کیمیکل کنٹینرز زوردار دھماکے سے پھٹ گئے ۔ دھماکے کی وجہ سے کیمیکل فیکٹری اور اس سے ملحقہ 2 فیکٹریوں اور 9گھروں کی چھتیں اور دیواریں زمین بوس ہوگئیں۔ چھتوں کے ملبے تلے دب کر خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 7 افراد کو تشویشناک حالت میں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر فیصل آباد سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جبکہ پولیس کی جانب سے فیکٹری مالک اور منیجر سمیت 7 افراد کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیکٹری میں صبح کے وقت ورکرز روٹین کے کام میں مصروف تھے کہ اس دوران مبینہ طور پر کیمیکلز کی مکسنگ کے دوران کیمیکلز والے کنٹینرز زور دار دھماکے سے پھٹ گئے اور فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی۔ شہاب ٹائون کا 48 سالہ عاشق اور اس کے تین بیٹے 25 سالہ عبید عاشق، 23 سالہ عمر عاشق اور 21 سالہ بلال عاشق جاں بحق ہوگئے۔ 62 سالہ شفیق اور اس کی 55 سالہ اہلیہ مقصودہ بی بی بھی حادثے کا شکار بن کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ سات سالہ عرفان اور اس کا 10 سالہ بھائی احمد بھی المناک حادثے کا شکار بن کر ابدی نیند سو گئے۔ 13 سالہ مقدس عرفان اور اس کا بھائی 40 سالہ ریحان عرفان بھی حادثے کا شکار بن کر جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ شہاب ٹائون کے رہائشی ریاست علی کی 40 سالہ اہلیہ فاخرہ بی بی، دو سالہ بیٹے علی حسنین، تین سالہ بیٹی جنت بی بی دو سالہ بیٹی ایمان فاطمہ کو بھی اس المناک حادثے نے اپنا شکار بنا لیا اور ماں سمیت تینوں بچے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ 28 سالہ شان ولد اکرم اور چار سالہ اذان ولد عبدالرحمن سمیت مجموعی طور پر 20 افراد جاں بحق ہوئے ۔حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو، سول، ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا اور زخمیوں اور لاشوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ دھماکے کی وجہ سے آگ کے بلند ہوتے ہوئے شعلوں کو کنٹرول کرنے میں ریسکیو ٹیموں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ ذرائع کے مطابق مذکورہ کیمیکل فیکٹری نوٹیفائیڈ انڈسٹریل ایریا میں قائم تھی، معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے کمشنر فیصل آباد سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ کمشنر فیصل آباد کی جانب سے معاملے کی جامع تحقیقات اور حقائق کو سامنے لانے کے لئے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔ فیکٹری مالک قیصر چغتائی اور منیجر بلال علی سمیت سات افراد کے خلاف دہشت گردی قتل اقدام قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے حراست میں لے لیا گیا ۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کرسٹل کیمیکل فیکٹری میں خطرناک کیمیکل اور آتش گیر مادہ ذخیرہ کیا گیا تھا، یہ خطرناک کیمیکل اور آتش گیرمادہ فیکٹری میں استعمال کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے ملحقہ آبادی کے لوگوں میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا۔علاقے کے لوگوں نے متعدد بار اس کی شکایت کی کہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادے سے بھرے کنٹینرز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں جس پر محکمہ پولیس کی طرف سے فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور ملازمین کو متعدد بار تنبیہ کی گئی لیکن فیکٹری مالک اور ملازمین نے اپنا کام جاری رکھا۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 لگائی گئی ہے جوکہ قتل سے متعلق ہے اور دونوں دفعات میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔