گوجرانوالہ میں 16 گھنٹے ریکارڈ بارش ، 2بچوں سمیت 3افراد ،نوشہرہ ورکاں میں مزدور،قصور میں لڑکی نے دم توڑا
پاکپتن میں 2کمسن بہن بھائی اور پختونخوا میں 12 افراد جاں بحق ہوئے،کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ ،گاڑی دریا میں جا گری
لاہور ( کرائم رپورٹر)ملک کے مختلف علاقوں میں تباہ کن بارش، چھتیں،دیواریں گرنے ،کرنٹ لگنے سمیت دیگر واقعات میں متعددبچوں سمیت 20افراد جاں بحق ،45 زخمی ہو گئے،پنجاب میں7،آزادکشمیر 1، پختونخوا میں 12اموات ہوئیں۔ گوجرانوالہ میں ایک خاندان کے 2بچوں سمیت 3 افراد، پاکپتن میں 2کمسن بہن بھائی ،نوشہرہ ورکاں اورقصور میں ایک ایک شہری جاں بحق ہو ا۔تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں گزشتہ روز کہیں ہلکی اور کہیں تیز موسلا دھار بارش ہوئی ، جیل روڈ، گلشن راوی، سمن آباد، گلبرگ، نشتر ٹائون اور دیگر علاقوں میں وقفہ وقفہ سے ہونیوالی بارش سے گرمی اور حبس کی شدت میں نمایاں کمی ہو گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ادھر گوجرانوالہ میں گزشتہ روز علی الصبح تقریبا 4بجے بارش شروع ہوئی جو مسلسل 16 گھنٹے سے زائد جاری رہی، 250ملی میٹر ہونیوالی بارش نے 12سال کا ریکارڈ توڑ دیا، اس دوران محلہ بختے والہ میں بارش کے کھڑے پانی سے گزرنے والے موٹرسائیکل سوار 25 سالہ نوجوان حنان بٹ کو بجلی کے پول سے کرنٹ لگ گیا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، اسی طرح نوشہرہ روڈ پر واقع ایک گھر کی بوسیدہ چھت گر نے سے ملبے تلے دب کر 7 سالہ شاہین اور6 ماہ کا شان جاں بحق جبکہ سلمیٰ اور 10 سالہ ثناء زخمی ہو گئیں۔ تحصیل نوشہرہ ورکاں کے علاقہ تتلے عالی میں بارش کے باعث زیرتعمیر رائس ملز کی چھت گرگئی اور ملبے تلے دب کر55 سالہ مزدور محمد یونس موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 26 سالہ ارسلان اور 27 سالہ ثاقب زخمی ہوگئے۔ نوشہرہ ورکاں میں محلہ اسلام پورہ میں ابراہیم نامی شہری کے گھر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 2 افراد زخمی ہو گئے۔ادھر پاکپتن کے نواحی چک دھاونہ نزد 33 ایس پی گائوں میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 8 سالہ نور فاطمہ اور اس کا 6 سالہ بھائی عثمان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ان کی والدہ نسرین بی بی زخمی ہو گئیں۔اسی طرح پاکپتن کے ہی چک نمبر 75 ڈی میں شدید بارش کے باعث مٹی اور لکڑی سے بنے کچے مکان کی چھت گرنے سے 70 سالہ خاتون سائرہ بی بی زوجہ امیر زخمی ہو گئی۔ ادھر قصور کی تحصیل چونیاں کے علاقہ تلونڈی میں محلہ فیصل آباد میں گھر کی چھت گرنے سے 16 سالہ سعدیہ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کی والدہ شدید زخمی ہو گئی ۔ الٰہ آباد کے نواح میں بھی مکان کی چھت گرنے سے 45 سالہ نسرین زوجہ مصطفی اورایک بچی زخمی ہوگئی ۔ علاوہ ازیں منڈی بہائولدین میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے مختلف حادثات میں 4 خواتین سمیت 6 افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کے ڈفر گائوں سمیت دیگر علاقوں میں12 گھنٹوں کی موسلادھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹنے سے موسم خوشگوار ہو گیاتاہم اس دوران مختلف واقعات میں 4 خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔ سیالکوٹ میں صبح 8 بجے سے دوپہر ساڑھے 3بجے تک مسلسل بارش کا سلسلہ جاری رہا،دوپہر تک ائیرپورٹ اور سمبڑیال میں 62 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ ، مانسہرہ سمیت دیگر اضلاع میں گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے،سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 12 افراد جاں بحق 15 زخمی ہوگئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 بچے اور ایک خاتون شامل ہے،تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 14 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 13 گھروں کو جزوی جبکہ 1 گھر مکمل منہدم ہوا۔ علاوہ ازیں نوشہرہ میں سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا،مانسہرہ میں سیلابی ریلے کے باعث 3 رابطہ پل بہہ گئے جس سے مانسہرہ درمیانہ گائوں کا کاغان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ کاغان اور ناران میں شدید بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند ہو گئیں ۔پشاور میں رات بھر بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جو 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کئی علاقوں میں بحال نہ ہوسکی۔ تحصیل رستم اور گردونواح کے ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔دیر لوئر میں دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہوگئی،شدید بارشوں سے بالائی علاقوں کی متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ بجلی کے فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ دوسری جانب نوشہرہ میں 14 گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں ،ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے تمام گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ علاوہ ازیں راولپنڈی میں ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کر دیا گیا اورنالہ لئی اور دیگر نشیبی علاقوں میں ریسکیو اہلکاروں کی خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ آزادکشمیر کید ارلحکومت مظفر آباد کے علاقہ کاہوڑی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر سیاحوں کی گاڑی دریائے نیلم میں جا گری جس کے نتیجہ میں ایک سیاح کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرا لاپتہ ہو گیا۔ دریں اثناء آج بدھ کے روز خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ شمال مشرقی پنجاب،اسلام آباد ،ڈیرہ غازی خان کیبھی پہاڑی ندی نالوں اور بلوچستان کے بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔اسلام آباد،راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے ،مون سون کا موجودہ سپیل 24 جولائی تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔