2018کے حالات کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ، کورٹ مارشل ہونا چاہیے خواجہ آصف

 27ویں ترمیم کے بعد ملک کے نظام میں کافی بہتر ی آئے گی،  منظوری سے پہلے کچھ چیزیں مشاورت کے بعد ڈراپ کی گئیں،28ویں ترمیم کیلئے اپوزیشن سمیت سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا 
ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے،بیرونی قرضوں کی واپسی اور دفاع کے بجٹ میں صوبوں کو بھی کچھ بوجھ اٹھانا چاہیے،  خواتین کی بے حرمتی کے حوالے سے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کروں گا
اسلا م آباد (آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف  نے کہا ہے  2018کے حالات کے ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ ہیں،میں تو کہتا ہوں ان کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے،انہوں  نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا انکا ٹرائل ہونا چاہیے۔ایک نجی ٹی وی سے  گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے بعد ملک کے نظام میں کافی بہتر ی آئے گی،ترمیم کی منظوری سے پہلے کچھ چیزیں مشاورت کے بعد ڈراپ کی گئیں۔ملک میں بلدیاتی نظام کی تجویز بھی ترمیمی ڈرافٹ میں شامل تھی،وفاق بیرونی قرضہ لے کر بہت ساپیسہ صوبوں کو بھی دیتا ہے،بیرونی قرضوں کی واپسی اور دفاع کے بجٹ میں صوبوں کو بھی کچھ بوجھ اٹھانا چاہیے۔تمام عالمی قرضوں کا بوجھ صرف وفاق اٹھاتا ہے،دفاع صرف اسلام آباد کا ہی نہیں پورے پاکستان کا ہو رہا ہے،میرا ذاتی خیال ہے ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے،ملک میں بلدیاتی نظام موجود ہے مگر نچلی سطح تک مضبوطی نہیں ہے۔انہوں نے کہا ستائیسویں ترمیم کی منظوری سے پہلے تمام جماعتوں کو مشاورت کیلئے مدعو کیا گیا،28ویں ترمیم کیلئے بھی بشمول اپوزیشن سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ خواتین کی بے حرمتی کے حوالے سے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کروں گا،جتنا مرضی اختلاف ہو خواتین کا احترام قائم رکھنا چاہیے،پی ٹی آئی نے اپنے دورحکومت میں لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے