فیض حمید تنہا نہیں تھا، قمر باجوہ بھی ساتھ تھا، ٹرائل ہونا چاہیے: جاوید لطیف

 نواز شریف نے کہا تھا مینڈیٹ نہیں ملا حکومت نہیں بنانی چاہیے،ملک کی خاطر حکومت بنانے کا فیصلہ کیا
 دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے تو 9مئی والوں کا کیوں نہیں،لیگی رہنما کاانٹرویو
 اسلام آباد(آئی این پی )مسلم لیگ (ن )کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ فیض حمید تنہا نہیں تھا، قمر باجوہ بھی ساتھ تھا ٹرائل ہونا چاہے، نواز شریف نے کہا تھا کہ مینڈیٹ نہیں ملا حکومت نہیں بنانی چاہیے، مالیاتی اداروں سے ڈیل کرنے کے لیے ارینجمنٹ کی گئی تھی ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت بنانے سے انکار کردیا تھا اس لیے ارینجمنٹ کی گئی، ملک کی خاطر (ن) لیگ نے حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ مالیاتی اداروں سے ڈیل کے لیے سیاسی حکومت ہونی چاہیے۔ جاوید لطیف کے مطابق فارم 47کی حکومت جس کو کہا جاتا ہے اس کی حقیقت ساری یہ ہے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے لیے جدوجہد کی، تکالیف برداشت کیں، ایک ادارے نے خود احتسابی شروع کی اچھی بات ہے مگر مکمل خود احتسابی ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے ادارے بھی خود احتسابی شروع کریں تو نواز شریف کو بولتا دیکھیں گے۔جاوید لطیف نے کہا کہ 2018کے بعد ہماری جماعت سے کچھ لوگ سہولت کاری کے لیے ملتے رہے، میں نے کہا تھا یہ سہولت کاری کرنے والے مفاہمت پرست نہیں، مفاہمت پرست کا کہنے پر میری جماعت نے مجھے نوٹس بھی دیا تھا۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ریاست کو 9 مئی کا انصاف مل گیا ہے تو ٹرائل سوال عدالت میں ہونا چاہیے، 9مئی کا انصاف ملنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہونا چاہیے، دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے تو 9 مئی والوں کا کیوں نہیں۔