قمر جاوید باجوہ سے پوچھا جائے دہشت گردوں کو پاکستان میں کیوں بسایا خواجہ آصف

 پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر  ہے ،مشرف والی جنگ دہشت گردی کیخلاف نہیں تھی،  دراندازی امریکی اسلحے کے باعث ہورہی ہے
 دہشت گردی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت بھی تو اٹھائے،فیض حمید تو گرفتار ہیںامریکی صدر خود تسلیم کررہے   انہیں اسلحہ افغانستان نہیں چھوڑنا چاہیے تھا 

اسلام آباد (آ ئی این پی )وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے  پاکستان نے ایک بین الاقومی ذمہ داری پوری کی، پرویز مشرف والی جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں تھی، ایک دہشت گرد کو گرفتارکرکے امریکہ کے حوالے کیا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، پاکستان میں دراندازی امریکی اسلحے کے باعث ہورہی ہے، امریکی صدر خود تسلیم کررہے کہ انہیں اسلحہ افغانستان نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا۔ان  خیالات کااظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کیا۔  خواجہ آصف نے کہا کہ پرویز مشرف والی جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں تھی، پاکستان نے ایک بین الاقومی ذمہ داری پوری کی، ایک دہشت گرد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا، یہ ایک مشترکہ جنگ ہے، سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے۔وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، پاکستان میں دراندازی امریکی اسلحہ کے باعث ہورہی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود تسلیم کررہے ہیں کہ انہیں اسلحہ افغانستان نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا دہشت گردی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت بھی تو اٹھائے، خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی کے اقتدار کی جنگ لڑ رہا ہے، کے پی حکومت دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کر رہی۔ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشت گردوں کو واپس بسانے میں جنرل باجوہ کا بھی کردار تھا، جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس بسایا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا فیض حمید تو گرفتار ہے، جنرل باجوہ سے تو پوچھا جائے کہ اس نے ان دہشت گردوں کو کیوں بسایا۔