الیکشن کمیشن نے عدم حاضری پرسہیل آفریدی کو استثنیٰ د یدیا، سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی
الیکشن کمیشن کی جانب سے طلبی غیرقانونی ہے: وزیراعلی کے پی نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
اسلام آباد‘پشاور(آئی این پی )الیکشن کمیشن کی جانب سے ذاتی حیثیت میں طلبی پر وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا۔ وزیراعلی کے پی کے سہیل آفریدی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو دھمکیوں کے معاملے پر وکیل علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بھی پیش ہوئے۔وکیل علی بخاری نے بینچ کو آگاہ کیا کہ ایک ہی وقت میں ڈی آر او نے نوٹس کررکھا ہے۔ ایک ہی وقت میں 2 جگہ سے نوٹسز ہوئے ہیں۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو کی عدم حاضری پر استثنیٰ دے دیا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے آج ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وفاقی وزیر کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ وفاقی وزیر کو آپ سے زیادہ سخت زبان میں نوٹس جاری کیا ہے۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔دریں اثناء وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے خود کو طلب کرنے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔درخواست میں موقف اپنایا کہ بغیر کسی وجہ اور جواز کے درخواست گزار کو الیکشن کمیشن نے طلب کیا ہے، مختلف الزامات کی بنیاد پر وزیر اعلی کو بلایا گیا ہے۔وزیراعلی نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کا وزیر اعلی کو طلب کرنا غیر قانونی ہے جبکہ یہ اقدام آرٹیکل 9، 10 اے، 17 اور 25 کی خلاف ورزی ہے