ویب ڈیسک:امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کے خلاف ایک بڑے انسدادِ اجارہ داری کیس میں جج سے مطالبہ کیا ہے کہ گوگل کو اپنے کروم براؤزر کو فروخت کرنے کا حکم دیا جائے۔
اس کیس میں گوگل پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم اور ڈیفالٹ سرچ انجن کے اختیارات کا غلط استعمال کر کے مسابقت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گوگل کے یہ اقدامات مارکیٹ میں دیگر کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ کروم براؤزر گوگل کی اجارہ داری کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس کی فروخت مارکیٹ میں مسابقتی ماحول کو بہتر بنا سکتی ہے۔ مزید برآں، حکام نے کہا کہ گوگل کو اینڈرائیڈ کو اپنی دیگر مصنوعات، جیسے گوگل پلے اسٹور اور سرچ انجن، سے علیحدہ کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔گوگل کے عالمی امور کے صدر کینٹ واکر نے اس مطالبے کو ایک مداخلتی اقدام قرار دیا اور کہا کہ کروم یا اینڈرائیڈ کو علیحدہ کرنا ان سسٹمز کو کمزور کر دے گا۔ گوگل اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حتمی سماعت اگست 2025 میں متوقع ہے، اور یہ فیصلہ تکنیکی اور تجارتی دنیا پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے