گوگل پرائیویسی اسکینڈل: امریکی عدالت کا 425 ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ

گوگل پرائیویسی اسکینڈل: امریکی عدالت کا 425 ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک: امریکی عدالت نے ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک، گوگل کے خلاف ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں اسے صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر 425 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ سان فرانسسکو کی فیڈرل کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، جس میں گوگل پر الزام تھا کہ اس نے گزشتہ 8 سال تک صارفین کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کیا۔ مقدمے میں مدعی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی نے ویب اور ایپ ایکٹیویٹی سیٹنگز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ صارفین نے 31 ارب ڈالر سے زائد ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر جیوری کے فیصلے کے بعد 425 ملین ڈالر کا ہرجانہ مقرر کیا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ گوگل کو صارفین کی پرائیویسی کے معاملات پر سزا یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل ارجنٹینا میں بھی گوگل کے خلاف ایک مقدمہ سامنے آیا تھا، جہاں عدالت نے کمپنی کو ایک شہری (پولیس افسر) کو 12,500 امریکی ڈالر ہرجانہ دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گوگل اسٹریٹ ویو کیمرہ نے 2015 میں شہری کے گھر کے صحن کی تصویر بنائی، جس میں وہ برہنہ حالت میں دکھائی دیا۔ متاثرہ شہری نے نہ صرف گوگل بلکہ چند مقامی میڈیا اداروں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا، جس کے نتیجے میں عدالت نے فیصلہ اس کے حق میں سنایا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے کہ وہ صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔