ویب ڈیسک:ملک میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی روئی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے، جس کے باعث کسانوں اور کاٹن جنرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حالیہ دنوں میں روئی کی قیمتوں میں 300 روپے فی من کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد قیمت 17 ہزار 700 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کا کہنا ہے کہ بلوچی روئی کی قیمت 18 ہزار روپے فی من تک پہنچی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روئی کی قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ درآمدات کا بڑھنا ہے، جس کے نتیجے میں اندرونِ ملک روئی کی سپلائی میں اضافے نے قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے، جس کی بنا پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود، مقامی سطح پر کسانوں کو قیمتوں میں کمی کا سامنا ہے جو ان کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران، کاٹن جنرز فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملکی سطح پر روئی کی قیمتوں کے استحکام کے لیے اقدامات کرے تاکہ کسانوں کو نقصان نہ ہو اور روئی کے شعبے کی ترقی میں رکاوٹ نہ آئے۔