انمول عرف پنکی کے مبینہ شوہر سابق انسپکٹر رانا اکرم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

انمول عرف پنکی کے مبینہ شوہر سابق انسپکٹر رانا اکرم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور میں سیشن کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ رانا محمد اکرم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم درخواست گزار یاسمین تبسم المعروف نگار چوہدری کی درخواست پر دیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے گھر پر مبینہ طور پر غیر قانونی چھاپہ مارا گیا اور 55 لاکھ روپے مالیت کا سامان لے جایا گیا۔عدالتی حکم کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعات 22A اور 22B کے تحت ایس ایچ او کو فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں قابلِ دست اندازی پولیس جرائم کے واضح شواہد موجود ہیں، جن کی مزید تحقیق ایف آئی آر کے بعد کی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق سابق افسر رانا محمد اکرم پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر گھر میں غیر قانونی داخلہ لیا اور سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم پولیس کے مختلف اداروں کی انکوائری رپورٹس میں اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں انہیں بدانتظامی اور غلط رویے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جبکہ بعد کی انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔سی سی پی او آفس اور انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی یونٹ کی رپورٹس میں بھی اس کیس کی مختلف جہتوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ بعد ازاں مزید تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا تھا تاکہ حقائق واضح کیے جا سکیں۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ رانا محمد اکرم فروری 2025 میں ریٹائر ہو چکے ہیں، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ریٹائرمنٹ کے باوجود اگر الزامات موجود ہوں تو قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس حکام الزامات کی نوعیت کا حتمی تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے اصل حقائق کا تعین تفتیش کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔عدالتی فیصلے میں ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی ہے کہ درخواست گزار کی شکایت پر فوری طور پر مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق کارروائی شروع کی جائے۔ یہ فیصلہ 20 مئی 2026 کے عدالتی حکم کے تحت جاری کیا گیا۔