کراچی: منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر کی جانب سے جمع کرائے گئے عبوری چالان میں کیس کے مجموعی پس منظر، ملزمان کے مبینہ کردار اور مالی لین دین سے متعلق تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ چالان کے مطابق مجموعی طور پر 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق مفرور ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں، جبکہ کیس میں مجموعی طور پر 16 گواہان کے نام بھی درج کیے گئے ہیں۔چالان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی گزشتہ کئی برسوں سے منشیات کی تیاری اور فروخت کے مبینہ نیٹ ورک سے منسلک رہی۔ رپورٹ کے مطابق وہ کراچی کے پوش علاقوں میں تعلیمی اداروں اور مختلف تقریبات کے ذریعے منشیات کی ترسیل میں مبینہ طور پر ملوث رہی۔تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خریداروں سے رابطہ کرتی اور مختلف رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کروائی جاتی تھی۔ مالی لین دین کے لیے مبینہ طور پر مختلف افراد اور اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے تھے۔
چالان کے مطابق سائبر کرائم اور فرانزک رپورٹس میں موبائل فون ڈیٹا، چیٹس اور وائس نوٹس سمیت متعدد شواہد حاصل ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے شواہد سامنے آئے ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے خلاف دیگر مقدمات بھی درج ہیں جبکہ اس کے مبینہ نیٹ ورک سے منسلک افراد کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ ابتدائی (عبوری) چالان ہے اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔