وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ عام افراد، خصوصاً سکول کے بچوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور پاکستان پوری طاقت سے جواب دے گا، کسی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) درحقیقت بھارت کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان ٹھوس ثبوت پیش کرے گا۔خواجہ آصف نے کہا کہ بی ایل اے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھارت کے مالی معاونت یافتہ ایجنٹ ہیں جن کا مذہب اور قوم سے کوئی تعلق نہیں۔ بھارت ان گروہوں کی مالی مدد کرتا ہے اور یہ پاکستان میں خونریزی میں ملوث ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن بھارت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ خ
واجہ آصف نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت ایک جھوٹے واقعے کو ایٹمی جنگ کی بنیاد بنانے کے لیے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ پاکستان ایٹمی تصادم کا آغاز نہیں کرے گا مگر اگر ایٹمی ہتھیار استعمال کیے گئے تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستانی فوجی اڈوں پر حملہ کیا، جو ناقابل قبول ہے اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔