پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو سول نافرمانی کرنی ہے تو وہ کر لے، لیکن دھمکیوں سے ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہی، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی دباؤ اور احتجاجی تحریک کی تنقید کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ باضابطہ مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہوئے ہیں، اور یہ باتیں تب تک نہیں ہوسکتیں جب تک کوئی پیش قدمی نہ ہو۔ انہوں نے شیر افضل مروت کی جانب سے کی جانے والی باتوں کو "خوشگوار ہوا کا جھونکا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار تھا جب مخالف جماعت کی جانب سے کسی خوشگوار ردعمل کا سامنا ہوا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر آپ تلخی سے بات کریں گے تو تلخی ہی بڑھے گی اور مذاکرات کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گن پوائنٹ پر مذاکرات نہیں ہو سکتے اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف حملے کیے جائیں، سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جائے۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کو تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد پر حملہ کرنے کا حق رکھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی حکومت کو دیگر مسائل، خاص طور پر امن و امان کی صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار میں آج بھی آگ نہیں بجھ سکی، اور وہاں کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے۔وزیر دفاع نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کرم میں زمین کے جھگڑے کی وجہ سے شیعہ سنی فساد پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس جنگ میں زیادہ نقصان ہو رہا ہے، اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔خواجہ آصف نے سوال کیا کہ احتجاج کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر حملہ آور کون تھے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیل میں سہولتوں کی کمی کی شکایات کرنے والوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکن کبھی شکایت نہیں کرتے، اور انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل میں انتہائی خراب حالت میں رکھا گیا، لیکن انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔
وزیر دفاع کے ان بیانات سے واضح طور پر یہ پیغام دیا گیا کہ سیاسی مسائل کا حل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے نکلنا چاہیے، نہ کہ دھمکیوں یا تشدد کے ذریعے۔