اسد قیصر کو پشاور ہائیکورٹ سے 20 دن کی راہداری ضمانت مل گئی

اسد قیصر کو پشاور ہائیکورٹ سے 20 دن کی راہداری ضمانت مل گئی

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو 20 دن کے لیے راہداری ضمانت دے دی ہے۔

اسد قیصر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں مختلف مقدمات میں حفاظتی ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکیں۔درخواست کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے اسد قیصر کو حکم دیا کہ وہ ان تمام متعلقہ عدالتوں میں پیش ہوں جہاں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ان کے خلاف کتنی ایف آئی آرز درج ہیں، جس پر اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف 15 مقدمات ہیں۔عدالت نے گفتگو کے دوران اسد قیصر سے سخت سوالات بھی کیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے:“اسد قیصر صاحب، اس صوبے کے ساتھ آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہاں تیسری بار آپ کی حکومت بنی ہے، نوجوانوں کے لیے آپ نے کیا اقدامات کیے؟”اس پر اسد قیصر نے جواب دیا کہ:“ہم نے صوابی میں کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی ہیں، کامرس کالجز بھی بنائے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی ہم آواز بلند کر رہے ہیں۔”
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے اس موقع پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا:“یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کورسز شروع کریں۔ پاکستان کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک 840 ارب ڈالرز کی آئی ٹی سروسز ایکسپورٹ کر رہا ہے جبکہ ہم صرف 2 ارب ڈالرز پر ہیں۔”انہوں نے مزید کہا:“صحت کارڈ ایک اچھا اقدام ہے لیکن آپ کو نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ دینی چاہیے۔ فنانس کے لیے کراچی سے بندہ بلایا گیا، کیا خیبر پختونخوا میں کوئی ماہر موجود نہیں تھا؟”عدالت نے راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اسد قیصر کو دی گئی مہلت کے دوران تمام متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا ہوگا۔
4o