پشاور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی ایک ماہ کی راہداری ضمانت منظور کر لی ہے۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم کی زیر صدارت پشاور ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران سنایا گیا۔
راہداری ضمانت کا حکم:
پشاور ہائی کورٹ نے عمر ایوب کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ایک ماہ کی راہداری ضمانت فراہم کر دی۔ عدالت نے اس دوران یہ بھی حکم دیا کہ عمر ایوب کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔ عدالت نے عمر ایوب کو ہدایت کی کہ وہ 21 جنوری تک متعلقہ عدالتوں میں پیش ہوں۔
درخواست گزار کا موقف:
عمر ایوب کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ان کے موکل کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ رمنہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عمر ایوب کو گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر راہداری ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکیں۔یہ فیصلہ عمر ایوب کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے انہیں گرفتاری سے تحفظ مل گیا ہے اور وہ عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے مقدمات کا سامنا کر سکیں گے۔