ویب ڈیسک: پاکستان کی کامیاب میزبانی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 نے جہاں دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین کو متاثر کیا، وہیں بھارتی میڈیا نے اس ایونٹ پر تنقید کا نیا محاذ کھول دیا ہے۔
بھارتی ویب سائٹ "کرک ٹوڈے" نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بنی ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات:
بڑے مالی نقصان کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایونٹ کی تیاری اور اسٹیڈیم اپ گریڈیشن پر 869 کروڑ روپے (تقریباً 98 ملین امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی، تاہم ٹورنامنٹ سے حاصل ہونے والی آمدن صرف 6 ملین ڈالر رہی، جس کے نتیجے میں بورڈ کو تقریباً 85 فیصد مالی نقصان ہوا۔
اسٹیڈیم اپ گریڈیشن پر خطیر رقم خرچ
لاہور، کراچی اور راولپنڈی کے اسٹیڈیمز کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے 18 ارب روپے (تقریباً 58 ملین ڈالر) خرچ کیے گئے، جبکہ تقریب کے انتظامات، سیکیورٹی، مہمان نوازی اور مارکیٹنگ پر مزید 40 ملین ڈالر لگائے گئے۔
آمدن کے ذرائع ناکافی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزبانی کی فیس، ٹکٹوں کی فروخت اور اسپانسرشپ معاہدوں سے بورڈ کو بہت کم آمدن ہوئی۔ بعض اہم بین الاقوامی اسپانسرز مبینہ طور پر سیکیورٹی خدشات کے باعث مکمل شمولیت سے گریزاں رہے۔
پاکستانی ٹیم کی کارکردگی
رپورٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میزبان ہونے کے باوجود ٹیم نے صرف ایک ہوم میچ کھیلا، جس میں شکست ہوئی۔ دوسرا میچ بھارت سے دبئی میں ہوا، جہاں پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تیسرا میچ بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی میں شیڈول تھا، جو بارش کے باعث منسوخ ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کا ردعمل: کامیابی ہضم نہ ہو سکی؟
اگرچہ چیمپئنز ٹرافی 2025 نے ویورشپ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے اور دنیا بھر میں پاکستان کی کرکٹ میزبانی کی صلاحیت کو سراہا گیا، لیکن بھارتی میڈیا نے مسلسل منفی رپورٹس شائع کر کے اسے "ناکامی" قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
پی سی بی کا مؤقف؟
تاحال پی سی بی نے کرک ٹوڈے کی رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ذرائع کے مطابق بورڈ ان دعوؤں کو بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے سکتا ہے۔