نئی دہلی: بھارتی لوک سبھا کی رکن ماہوا موئیترا نے پروفیسر علی خان محمود آباد کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں اپنی تقریر اور سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے بی جے پی حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ماہوا موئیترا نے کہا کہ بی جے پی حکومت منافرت کی سیاست کر رہی ہے، جہاں ایک طرف پروفیسر علی خان کو ان کی آواز اٹھانے پر گرفتار کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف بی جے پی رہنما وجے شاہ جو کرنل صوفیہ قریشی کو "دہشتگردوں کی بہن" کہتا ہے، وہ آزاد گھوم رہا ہے۔
پروفیسر علی خان نے 8 مئی کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر دائیں بازو کے مبصرین کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کر سکتے ہیں تو انہیں ماب لنچنگ، گھروں کی مسماری اور مسلم مخالف دیگر اقدامات پر بھی آواز اٹھانی چاہیے تاکہ سب شہریوں کو یکساں تحفظ ملے۔
چند دنوں بعد انہیں "اشتعال انگیزی" کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ماہوا موئیترا کے بیان نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور بی جے پی کی فرقہ وارانہ پالیسی پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔