امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کر دیا

امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کر دیا

امریکی کانگریس کی رکن یاسمین انصاری نے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کا ہے، اور یہ اختیار صدر یا اس کے قریبی حلقوں کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالا گیا تو یہ مواخذے کے لیے کافی ہے، کیونکہ فوجیوں کی حفاظت اور ملک کے قوانین کی پاسداری سب سے اہم ہے۔اس سلسلے میں یاسمین انصاری کا موقف ہے کہ جنگ کے اعلان کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور صدر کا یہ اختیار نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صدر جنگ کا اعلان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ آئینی خلاف ورزی ہوگی اور اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔دریں اثنا، ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیا ہے۔

مہدی محمدی، جو ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر ہیں، نے ٹرمپ کو تنبیہ کی ہے کہ ان کے پاس صرف 20 گھنٹے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ہتھیار نہ ڈالے، تو ان کے اتحادیوں کو "پتھر کے زمانے" میں بھیج دیا جائے گا۔ مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ جیت چکا ہے اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایران اپنی سرزمین اور عزت کا دفاع کرے گا۔یہ دونوں خبریں خطے اور عالمی سطح پر جاری سیاسی اور فوجی کشمکش کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں طاقت اور اختیار کے حوالے سے سخت موقف اپنایا جا رہا ہے۔