ٹرمپ کی ناقد مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر پر امریکی تحقیقاتی ادارے کا چھاپہ

ٹرمپ کی ناقد مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر پر امریکی تحقیقاتی ادارے کا چھاپہ

امریکی تحقیقاتی ادارے ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی ہے۔

 امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امیگریشن سے متعلق دستاویزات میں مبینہ دھوکا دہی کے معاملے کی فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے پیر کی صبح واشنگٹن ڈی سی کے نواحی علاقے میں واقع الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی۔ زیرِ تفتیش دستاویزات مبینہ طور پر ان کے والد نے اس وقت مکمل کی تھیں جب الہان عمر کم عمر تھیں۔ ان کے والد اب وفات پا چکے ہیں۔امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وفاقی اہلکاروں نے محکمہ انصاف سے حاصل کردہ اور عدالت کی جانب سے منظور شدہ سرچ وارنٹ کے تحت گھر کی تلاشی لی۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائی جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تلاشی کے دوران کوئی اہم شواہد یا دستاویزات برآمد ہوئیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ کسی معاملے کی تحقیقات یا گھر کی تلاشی بذاتِ خود کسی جرم کے ثابت ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی۔
الہان عمر صومالی نژاد امریکی سیاست دان ہیں اور ریاست منی سوٹا کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ 2018 میں کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دو مسلمان خواتین میں شامل تھیں۔الہان عمر انسانی حقوق، نسلی امتیاز اور اسلاموفوبیا سمیت مختلف معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ وہ غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں الہان عمر اور صومالی نژاد امریکی برادری کے بارے میں سخت بیانات دے چکے ہیں۔ تاہم، دستیاب اطلاعات میں ان سیاسی اختلافات اور حالیہ تلاشی کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔